Gas Leakage Web ad 1

کاکروچ جنتا پارٹی کا حکومت سےکامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنےکا اعلان

0

بھارتی نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنا احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

بھارتی یونین منسٹر جے پی نڈا اور مرکزی حکومت کے وزیر جتیندر سنگھ سے مذاکرات کے بعد ان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، اس لیے وہ تمام مظاہرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ختم کر دیں۔
آخری ملاقات میں عمران خان نے کہا تھا کہ پارٹی میری بات نہیں مان رہی: اقبال آفریدی
ترجمان سی جے پی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، نیٹ (NEET) پرچہ لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلخانہ کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا اور ملک بھر میں سی جے پی کے کارکنوں کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آرز بھی واپس لے لی جائیں گی۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے تعلیم میں اصلاحات سے متعلق کاکروچ جنتا پارٹی کے 5 نکاتی ایجنڈے سے بھی اتفاق کر لیا ہے اور اس حوالے سے مزید مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اس حوالے سے سی جے پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، جس کی تحریری ضمانت حکومت آئندہ منگل تک فراہم کرے گی۔

اسی تناظر میں وزیر تعلیم کے استعفے پر سی جے پی کے صدر نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کاکروچ ایک بار آ جائیں تو جاتے نہیں ہیں۔ اس سے قبل یہ پیش رفت بھی سامنے آئی کہ بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے۔ دوسری جانب پولیس وین روکنے والی ایک لڑکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پولیس سمجھتی تھی کہ وہ طاقت کے استعمال سے طلبہ کو خاموش کرا دے گی۔

واضح رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے مئی 2026 سے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی معروف شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو تمام لوگوں کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی تھی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے احتجاج میں شرکت کی۔ تاہم اس موقع پر بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا، واٹر کینن کا استعمال ہوا اور درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دی، لیکن مودی سرکار کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہے اور حکومت کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کی تجویر کو مسترد کر دیا۔ اس دوران بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.