سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت کر رہا ہے جس کا حکومت نے جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کو شکایت کرنی چاہیے۔
بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں ہے، جو بندوق اٹھاتے ہیں ان کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنی چاہیے جبکہ اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات ہونے چاہییں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست چل رہی ہے اور ملک اس کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پانچویں بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نہیں چل رہی۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پاکستان کی ضرورت ہے اور اگر نئے صوبے نہ بنائے گئے تو دونوں بڑی جماعتوں نے عوام کو بیوقوف بنایا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہوگا اور اگر حکومت کے برے دن شروع ہوئے ہیں تو پاکستان کے اچھے دن شروع ہوں گے۔
اس موقع پر سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش کرنے والوں کی کارکردگی کا جائزہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد دوسرے شخص بننے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار سے کم ہے اور پاکستان کی تاریخ میں اس سے بدترین کارکردگی کبھی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا آنے والا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریب پر ٹیکس ڈالتی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصولی میں ناکام ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 113 روپے کر دی ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت میں یہ لیوی صفر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے اقدامات پر معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سیاستدانوں کا کام نہیں کہ کس کو جیل میں ڈالنا ہے اور کس کو نہیں، یہ کام عدالتوں کا ہے۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان، عظمیٰ خان، اسد عمر سمیت دیگر کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
اس موقع پر علیمہ خان، عظمیٰ خان، اسد عمر، فواد چوہدری اور اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے عبوری ضمانت میں 9 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پراسیکیوشن اور وکلا سے دلائل طلب کر لیے۔