عمر میں اضافے کے ساتھ دانتوں کی رنگت میں بتدریج تبدیلی آتی ہے اور زرد رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ دانت زیادہ زرد ہونے لگتے ہیں کیونکہ دانتوں کی اوپری سطح مٹنے لگتی ہے۔
مگر دانتوں کی زرد رنگت بیشتر افراد کو پسند نہیں آتی اور وہ انہیں سفید کرنے کے لیے ہزاروں روپے بھی خرچ کر دیتے ہیں۔
بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے بھی دانتوں کی زردی کو کم کرنا ممکن ہے۔
چند ٹپس کے ذریعے دانتوں کی سفیدی بحال کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
بیکنگ سوڈا کا استعمال
بیکنگ سوڈا دانتوں کی سفیدی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ایک چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں مکس کریں اور ٹوتھ برش کے ذریعے دانتوں پر لگائیں۔ اس سے بتدریج دانتوں کی پیلاہٹ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسٹرابیری بھی مددگار
اس پھل میں موجود میلک ایسڈ ایک قدرتی کلینر کا کردار ادا کرتا ہے اور دانتوں کی سفیدی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سیب کھائیں
سیب دانتوں کی صفائی کرنے والے بہترین پھلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے چبانے سے دانتوں پر جمی گندگی ہٹانے میں مدد ملتی ہے۔
ناریل کے تیل سے مدد لیں
ایک چمچ ناریل کے تیل کو منہ میں بھر کر کچھ دیر کلی کی طرح گھمائیں۔ اس سے منہ میں موجود بیکٹیریا کم ہوتے ہیں اور دانتوں کے داغ بتدریج کم ہو سکتے ہیں۔
کوئلہ
کوئلہ بھی دانتوں کی سفیدی میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے دانتوں کے داغ کم کرنے اور بیکٹیریا ختم کرنے میں مدد ملتی ہے، تاہم آج کل کوئلے پر مبنی ٹوتھ پیسٹ بھی دستیاب ہیں۔
زیادہ پانی والے پھلوں یا سبزیوں کا استعمال
تربوز، خربوزہ، کھیرے اور ٹماٹر جیسے پھل اور سبزیاں منہ میں لعاب دہن بڑھاتے ہیں، جس سے کھانے کے ذرات صاف ہونے میں مدد ملتی ہے۔
دانتوں پر برش
دانتوں کو سفید اور صحت مند رکھنے کے لیے باقاعدگی سے برش کرنا ضروری ہے، دن میں کم از کم دو بار دو منٹ تک برش کیا جانا چاہیے۔ تیزابیت والی غذاؤں کے فوراً بعد برش کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے دانتوں کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ معلومات طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہیں، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔