روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ پُرامن معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے یوکرین کو بھی سمجھوتہ کرنا ہوگا، اور ان کے مطابق اسی صورت میں تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے۔
سینٹ پیٹرز برگ میں اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور لوہانسک کے پورے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی ڈرونز روسی حدود تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جس کے باعث فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ملک میں تجارتی عدالتوں کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل
ولادیمیر پیوٹن نے چین کے ساتھ دفاعی تعاون کو دیرینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون کسی کے خلاف نہیں بلکہ باہمی مفادات پر مبنی ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور کہا کہ روس چاہتا ہے ایران سے متعلق تنازع جلد از جلد ختم ہو۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ وہ یوکرین کے بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں پیوٹن نے بھارتی صحافی کے سوال پر کہا کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں، جسے میڈیا میں خاص توجہ حاصل ہوئی۔