بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اضافی بجلی کو اب ’صفر‘ یونٹ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشنز پر ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک کے نفاذ کے بعد اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر دی جانے والی سبسڈی یا ریلیف مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب
حکومت کے مطابق اضافی بجلی سسٹم پر شامل ضرور ہو جائے گی، لیکن نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت اس پر کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا۔
ساتھ ہی، ایکسپورٹ ایم ڈی آئی ریڈنگ کی بنیاد پر اضافی بجلی کی پیداوار پر دی جانے والی مراعات بند کر دی گئی ہیں اور منظور شدہ جنریشن لائسنس سے زیادہ پینلز نصب کرنے کی صورت میں ایکسپورٹ یونٹس پر بھی کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔