برطانیہ کے وزیراعظم Keir Starmer نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران Keir Starmer نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی برطانیہ کی جنگ نہیں ہے، اس لیے ملک اس تنازع میں کسی بھی شکل میں شامل نہیں ہوگا۔
مہنگائی سے کمزور طبقے کو بچانے کا مشن، تجاویز پر تاحال اتفاق رائے نہ ہوسکا
انہوں نے متنبہ کیا کہ ایران سے متعلق جنگ کے اثرات مستقبل پر گہرے اثر ڈال سکتے ہیں، اسی وجہ سے حکومت برطانیہ کو اس تنازع میں شامل ہونے سے بچانا چاہتی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ملک فراہم کیا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فارن سیکرٹری Yvette Cooper سیاسی اور سفارتی سطح پر اقدامات کریں گی اور اس سلسلے میں بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔
امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے نیٹو اتحاد سے علیحدگی پر غور سے متعلق سوال پر Keir Starmer نے کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے باوجود فیصلے صرف قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے پر شدید ردعمل دیا اور کہا کہ اگر ایران کی جنگ ان کی نہیں ہے تو پھر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بھی امریکا کی نہیں ہونی چاہیے۔
Donald Trump نے مزید کہا کہ یا تو امریکا سے تیل خریدا جائے یا پھر آبنائے ہرمز جا کر خود حاصل کیا جائے، کیونکہ امریکا اب کسی کی مدد نہیں کرے گا۔