خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہو رہا ہے اور اس کی منظوری وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی تھی۔
پشاور پریس کلب میں مسلم لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری مریضی جاوید عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت بروقت فیصلہ کرتی تو برف باری سے قبل علاقہ کلیئر ہو جاتا، تاہم آپریشن کے بعد اب حکومت اس پر تنقید کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے آپریشن معاہدے پر دستخط کیے، فنڈز بھی صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے، اور 95 ہزار آئی ڈی پیز کے لیے فی کس ایک لاکھ 25 ہزار روپے صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ کا کنٹرول نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردوں کی مخالفت کی بجائے ان کی حمایت کر رہی ہے، صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے اور عوام کے مینڈیٹ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ آپریشن کے لیے چار ارب روپے صوبائی حکومت نے جاری کیے، وفاقی حکومت نہیں، اور اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے پاس تیراہ آپریشن کا متبادل ہے تو وہ سامنے لائے تاکہ مرکز اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ دوسرے صوبوں کے گلی کوچوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا بدامنی اور عدم ترقی کا شکار ہے۔