اسلام آباد (اسپورٹس رپورٹر) بلی جین کنگ کپ ایشیا/اوشیانا گروپ تھری (B) کے فائنل میں ایران کی ٹیم نے پاکستان کو 2-0 سے شکست دے کر چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا، جبکہ پاکستان کو رنرز اپ کی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔

پاکستان ٹینس فیڈریشن کے مطابق اسلام آباد کے پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) ٹینس کمپلیکس، گارڈن ایونیو میں کھیلے گئے فائنل کے سنسنی خیز مقابلوں میں ایرانی کھلاڑی یاسمن یزدانی نے پاکستان کی عشنا سہیل کو 6-3 اور 6-4 سے شکست دی، جبکہ مشکات الزہرا صفی نے ماہین آفتاب قریشی کو 6-4 اور 6-4 سے ہرا کر اپنی ٹیم کو شاندار کامیابی دلائی۔
وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات
دیگر پوزیشنز کے لیے کھیلے گئے میچوں میں اردن نے مالدیپ کو 2-0 سے شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ مالدیپ چوتھے نمبر پر رہا۔ اردن کی جانب سے آنا ابو الحاج نے نایارا اسامہ علی کو 7-6(4) اور 6-4 سے ہرایا، جبکہ نور سائج نے عائشہ کرین سیزان کو 6-3، 6-7(4) اور 6-0 سے شکست دی۔
اسی طرح قطر نے بھوٹان کو 2-0 سے ہرا کر پانچویں پوزیشن حاصل کی، جبکہ بھوٹان چھٹے نمبر پر رہا۔ قطر کی خدیجہ گاساما نے کنلے یانگدن کو 6-3 اور 6-0 سے شکست دی، جبکہ ہند المضحکہ نے تنزین وانگسل لادین کو 4-6، 6-3 اور 6-0 سے ہرا کر اپنی ٹیم کی کامیابی یقینی بنائی۔
کویت کو بحرین کے خلاف واک اوور ملنے کے باعث ساتویں پوزیشن حاصل ہوئی، جبکہ بحرین آٹھویں نمبر پر رہا۔
ایونٹ کی پروقار اختتامی تقریب میں رکن قومی اسمبلی سیدہ امانہ بتول نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق قریشی مہمانِ اعزاز تھے۔ اس موقع پر پی ٹی ایف کے سیکریٹری جنرل کرنل ضیاء الدین طفیل اور پاکستان ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی صدر اسماء خاور خواجہ بھی موجود تھیں۔ تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
علاوہ ازیں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے بھی ٹینس کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی ٹیم سے ملاقات کی اور مقابلے دیکھے۔
اس موقع پر پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق قریشی نے فاتح ایرانی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کی بھرپور کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ملک میں پہلی بار اس بین الاقوامی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کو ویمن ٹینس کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور مستقبل میں بھی ایسے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا۔



