Gas Leakage Web ad 1

اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند

0

پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں سکیورٹی کی سنگین خامیاں دریافت ہوئی ہیں، جس کے بعد متعدد سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں فوری طور پر حفاظتی اپ ڈیٹس لاگو نہیں کرسکتیں، انہیں اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں فن لینڈ کی حکومت، ایڈنبرا سٹی کونسل اور بی بی سی نے اپنی بعض ویب سروسز عارضی طور پر آف لائن کردی ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ سکیورٹی خامیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دریافت کی گئی ہیں۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز کے مطابق یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب تک دریافت ہونے والی انتہائی سنگین سکیورٹی خامیوں میں شامل ہیں، جبکہ اے آئی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلیاں لا رہی ہے۔
جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلئے کل ملک گیر احتجاج کا اعلان
فن لینڈ نے حکومتی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کردی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان خامیوں کے باعث اس کی ویب سائٹ عارضی طور پر آف لائن کردی گئی ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے بھی مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر حفاظتی اپ ڈیٹس لاگو نہیں کرسکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کردیں۔ ان خامیوں کے ذریعے حملہ آور اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں تیز کررہے ہیں۔

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے بھی عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا ان کی عوامی ویب سائٹس پی ایچ پی پروگرامنگ زبان پر چل رہی ہیں یا نہیں۔

آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سکیورٹی خامیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کردیے گئے ہیں، تاکہ انہیں محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ کیے جانے تک خطرات سے بچایا جاسکے۔

اسی وجہ سے بعض صارفین کو وکی پیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ڈاکٹر ہو اور دی ٹریٹرز شامل ہیں، کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

تاہم متاثرہ اداروں نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی ویب سروسز کی بندش کی براہ راست وجہ پی ایچ پی کی سکیورٹی خامیاں ہی تھیں۔

دوسری جانب آرٹ پلیٹ فارم ڈیویئنٹ آرٹ سمیت بعض دیگر ویب سائٹس نے صرف اتنا بتایا ہے کہ ان کی سروسز عارضی دیکھ بھال کے لیے بند ہیں، تاہم بندش کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔

یہ سکیورٹی خامیاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کالیف اور وِز کے ماہرین نے دریافت کیں۔ یہ تحقیق اوپن اے آئی کے پیچ دے پلینٹ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈویلپمنٹ میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبانوں کی خامیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کیا جاسکے۔

اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو حالیہ برسوں کے اہم ترین سکیورٹی مسائل میں سے ایک قرار دیا ہے۔

یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کے چند ہفتوں کے اندر ہی ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹس کی ایک بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہوسکتی ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں ان خامیوں کے دائرۂ اثر میں آسکتا ہے۔

پی ایچ پی فاؤنڈیشن ان سکیورٹی خامیوں کی تفصیلات اور مکمل حفاظتی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، تاہم ان خامیوں سے متعلق معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہوگئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہوگیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.