وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، سالانہ بنیاد پر پیاز کی قیمت میں 75.19 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 68.95 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بجلی کے چارجز 58.59 فیصد بڑھ گئے۔ اسی طرح ایک سال کے دوران پیٹرول 49.6 فیصد اور ڈیزل 43.98 فیصد مہنگا ہوا۔
راولپنڈی کے تمام علاقوں اور کینٹ میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی
ادارہ شماریات کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں آٹے کی قیمتوں میں 35.13 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ چکن 20.77 فیصد مہنگا ہو گیا۔ اسی عرصے کے دوران مرچ پاؤڈر کی قیمت میں 15.55 فیصد، مٹن میں 14.09 فیصد اور بیف میں 12.27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سادہ ڈبل روٹی 9.02 فیصد مہنگی ہوئی۔
دوسری جانب، سالانہ بنیاد پر بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، ٹماٹر 63.65 فیصد سستے ہوئے، جبکہ ایک سال کے دوران آلو کی قیمت میں 39.93 فیصد اور چینی کی قیمت میں 23.2 فیصد کمی ہوئی۔
اسی طرح انڈے 19.83 فیصد اور نمک 14.86 فیصد سستا ہوا، جبکہ دال مسور کی قیمت میں 8.97 فیصد، گڑ میں 8.92 فیصد اور دال مونگ میں 7.83 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں 0.04 فیصد کمی ہوئی۔ ایک ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 7 اشیا سستی ہوئیں، جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ہفتہ وار بنیاد پر دال چنا 4.97 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ آٹے کی قیمت میں 3.36 فیصد اور چکن کی قیمت میں 3.31 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح انڈے 0.99 فیصد اور دال ماش 0.98 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ دال مسور کی قیمت میں 0.95 فیصد اور لکڑی کی قیمت میں 0.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب، ہفتہ وار بنیاد پر ٹماٹر 23.05 فیصد سستے ہوئے، جبکہ ایک ہفتے کے دوران پیاز کی قیمت میں 4.90 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 2.59 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح پیٹرول 0.70 فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 0.65 فیصد اور چینی 0.62 فیصد سستی ہوئی۔



