Gas Leakage Web ad 1

عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں: وزیر خزانہ

0

لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے، تاہم مختلف چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کے ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بانڈز میں یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔
برطانوی لڑکی کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے، جبکہ معاشی ترقی کے عمل میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے یہ کوشش کی کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو پیٹرول کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ حکومت نے ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کی، کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ موسم سرما کے دوران توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، جبکہ خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال بھی تسلی بخش ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماضی میں درآمدات پر انحصار کے باعث پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا، تاہم چار سے پانچ سال کی مسلسل کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ بی کی سطح پر لائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا، تاہم اس کے باوجود ان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.