ایکٹ الائنس پاکستان کا غیر قانونی سگریٹ کے کاروبار کے خلاف کارروائیوں میں تیزی اور قانونی مقدمات چلانے کا مطالبہ
ایکٹ الائنس پاکستان نے سال 2026 کے دوران غیر قانونی سگریٹ مافیا کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارروائیوں کو سراہا ہے۔ ایکٹ الائنس کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے غیر قانونی سگریٹ کی تیاری اور فروخت کے خلاف حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ایکٹ الائنس ایک سول سوسائٹی پلیٹ فارم ہے جو غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ، جعلی مصنوعات کی تیاری اور فروخت اور ٹیکس چوری کے خلاف کام کرتا ہے۔ مبشر اکرم نے وزیر اعظم پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے قومی خزانے کے تحفظ، قانونی کاروبار کے فروغ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

مبشر اکرم نے کہا کہ ہم غیر قانونی سگریٹ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ کاروباری گروہوں کے خلاف وزیر اعظم کی قیادت اور حکومتی عزم کو سراہتے ہیں۔ ایف بی آر کی ٹیموں کو مسلسل حکومتی تعاون فراہم کرنے سے ان کارروائیوں کے نتائج مزید بہتر ہوں گے اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے گروہوں کو دوبارہ مارکیٹ میں قدم جمانے سے روکا جا سکے گا۔
یکم جنوری سے 31 اگست 2026 تک کی دستیاب سرکاری رپورٹس کے جائزے کے مطابق ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک نے 675 چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں میں خام تمباکو سمیت، تمباکو کی صنعت سے متعلق دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان چھاپوں کی تعداد کو عدالتوں میں چلنے والے فوجداری مقدمات کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ دستیاب معلومات کے مطابق سگریٹ کی تیاری، مشینری سے متعلق قانون کی خلاف ورزیوں اور سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے بعض ممنوعہ یا مخصوص اشیا کے حوالے سے کم از کم چار مقدمات کے اندراج کی الگ الگ اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ یہ صرف رپورٹ ہونے والے مقدمات ہیں اور انہیں ملک بھر میں درج مقدمات کی مجموعی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ جائزے میں شامل ذرائع سے کسی ایسے مقدمے کی تصدیق نہیں ہوئی جس میں عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جرم ثابت ہوا ہو اور سزا سنائی گئی ہو۔
مبشر اکرم نے کہا کہ اب سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دینے کی ضرورت ہے کہ چھاپوں اور ضبطگیوں کے بعد کیا قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ غیر قانونی سامان کی ضبطگی کے ساتھ ساتھ مکمل تحقیقات، بروقت مقدمات اور عدالتوں میں جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزائیں بھی ضروری ہیں۔ حکومتی کارروائیوں کا اصل مقصد اسی وقت حاصل ہو گا جب غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔
سگریٹ انڈسٹری کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سے زیادہ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جن میں 50 فیصد سے زیادہ غیر قانونی ہیں۔ یہ صورتحال حکومت، قانونی کاروبار کرنے والی کمپنیوں اور ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار نہ صرف حکومت کو ٹیکس آمدن سے محروم کرتا ہے بلکہ ان کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتی ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔
مبشر اکرم نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ تمام کاروباروں کو یکساں اور منصفانہ ماحول فراہم کیا جائے۔ غیر قانونی کاروبار اور غیر منصفانہ مقابلے کی وجہ سے پاکستان میں پہلے سے کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کار اپنے کاروبار کو وسعت دینے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ نئے غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ لگانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس لیے غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کو صرف کسی ایک صنعت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ملکی معیشت کا ایک اہم مسئلہ سمجھ کر حل کرنا چاہیے۔
ایکٹ الائنس نے غیر قانونی سگریٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور تفتیشی اداروں اور سرکاری وکلا کے درمیان بہتر رابطوں پر زور دیا۔ مبشر اکرم نے کہا کہ ضبط شدہ سامان کو محفوظ رکھنا، اس کی تلفی میں شفافیت یقینی بنانا، ثبوتوں کو محفوظ کرنا اور درج مقدمات کی تحقیقات سے لے کر عدالتی فیصلوں تک مسلسل نگرانی کرنا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تعاون سے غیر قانونی سگریٹ کے کاروبار کو منظم کرنے اور اس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والے افراد کی بھی نشاندہی کی جا سکے گی، بشرطیکہ ان کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھاپوں اور ضبطگیوں کے بعد مضبوط قانونی کارروائی ہی ان اقدامات کو مؤثر بنا سکتی ہے۔ تفتیش اور مقدمات چلانے کی صلاحیت بہتر بنانے سے غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو دوبارہ قانون توڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس سے قانون کی پابندی میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کی قانونی معیشت پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
مبشر اکرم نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی سگریٹ مافیا کے خلاف حکومتی کارروائیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ ان میں مزید تیزی آئے۔ اس کے ساتھ تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ زیر التوا مقدمات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات چلنے چاہئیں اور جن افراد کا جرم عدالت میں ثابت ہو، انہیں قانون کے مطابق سزائیں ملنی چاہئیں۔ پاکستان ایسی کاروباری صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو قانون کی پابندی کرنے والی کمپنیوں پر برتری حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجارت کے خلاف مسلسل حکومتی کارروائیاں، مؤثر تحقیقات، مقدمات اور قانون کے مطابق سزائیں قومی خزانے کے تحفظ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور پاکستان کی قانونی اور دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔



