پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2028 سے حکومت کا تمام نیا قرض شریعہ کمپلائنٹ ہوگا۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلیم اللہ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں اسلامی بینکاری کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اس وقت بینکوں کے 29 فیصد ڈپازٹس اسلامی بینکاری کے تحت ہیں، جبکہ مجموعی قرضوں کا 40 فیصد اسلامی بینک فراہم کر رہے ہیں۔
رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 12 اگست کو ہوگا، کیا پاکستان میں دیکھا جاسکے گا؟
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2027 کے بعد کے لیے واضح حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت یکم جنوری 2028 سے نئے حکومتی قرضے شریعہ اصولوں کے مطابق حاصل کیے جائیں گے، جبکہ جہاں ممکن ہوا بیرونی قرضے بھی شریعہ کمپلائنٹ طریقہ کار کے تحت لیے جائیں گے۔
سلیم اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ روایتی قرضوں کی ادائیگی جاری رہے گی، تاہم ان کی تجدید یا رول اوور شریعہ کمپلائنٹ بنیادوں پر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے 40 قوانین میں ضروری ترامیم مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں گی، جبکہ 2028 سے مقامی بینک بھی مکمل طور پر شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی خدمات فراہم کریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے بھی ملکی معیشت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے حصے اور سود کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس بہت کم وسائل بچتے ہیں، اس لیے سود سے پاک نظام کی جانب پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔