Gas Leakage Web ad 1

پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز

0

حج پالیسی 2027 تا 2030 کے تحت پہلی مرتبہ 4 سالہ حج رجسٹریشن، ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ، مختلف حج پیکیجز، نجی شعبے کے کردار میں مرحلہ وار اضافہ اور مکمل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حج انتظامات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

نئی پالیسی کا مقصد حج انتظامات میں شفافیت، بہتر منصوبہ بندی، اخراجات میں کمی اور عازمین حج کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

پالیسی کے مطابق 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج سکیموں کا کوٹہ بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، تاہم وفاقی کابینہ ضرورت کے مطابق اس تناسب میں تبدیلی کر سکے گی۔

سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک

نئی پالیسی میں پہلی مرتبہ عازمین حج کو 4 سالہ رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے تحت وہ اپنی پسند کے سال کے لیے پہلے سے رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے اندازاً حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کرانا ہوگا، جبکہ حج کے لیے انتخاب شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

حکومت نے رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل سمیت اہم حج خدمات کے لیے 3 سے 4 سال تک کے معاہدوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، خدمات کے معیار میں بہتری اور اخراجات میں کمی ممکن ہو سکے۔

سرکاری حج سکیم کے تحت مختلف دورانیے کے متعدد حج پیکیجز بھی متعارف کرائے جائیں گے، جس سے عازمین اپنی ضروریات اور مالی استطاعت کے مطابق پیکیج کا انتخاب کر سکیں گے۔ حج اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں کمی بیشی ممکن ہے، جبکہ رقوم کی وصولی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے۔

پالیسی کے تحت حج کے تمام مراحل، جن میں رجسٹریشن، ادائیگی، مانیٹرنگ، شکایات کا ازالہ اور بعد از حج جائزہ شامل ہیں، مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت لائے جائیں گے۔ نجی حج کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کا استعمال لازمی ہوگا، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیوں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں براہ راست حج انتظامات چلانے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔

نئی پالیسی کے مطابق نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی ان کی کارکردگی اور مقررہ معیار پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔ تمام مالی ادائیگیاں صرف حکومت کے مقرر کردہ بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی تاکہ شفافیت اور مالی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان اور سعودی عرب میں حج سے متعلق تمام خریداری اور معاہدے متعلقہ سرکاری قواعد کے مطابق کیے جائیں گے۔ حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر عازمین کی جمع کرائی گئی رقم میں سے کوئی رقم بچتی ہے تو وہ واپس کر دی جائے گی۔

پالیسی میں سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کے آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے اور آڈٹ کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل شکایتی نظام، مؤثر نگرانی اور اپیل کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔

معاونین حج کے انتخاب کے لیے میرٹ پر مبنی جامع معیار مقرر کیا جائے گا، جبکہ عازمین کی تربیت میں مناسک حج، موبائل ایپس کے استعمال، صحت، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے متعلق آگاہی کو شامل کیا جائے گا۔

حجاج محافظ سکیم بھی برقرار رکھی جائے گی، جس کے تحت دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور خصوصی ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق حج پالیسی 2027 تا 2030 کو سعودی وژن 2030 اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ حج انتظامات میں شفافیت، جوابدہی، ڈیجیٹل گورننس اور عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.