وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پالیسیوں کے عدم تسلسل کے باعث ترقی کا سفر بار بار متاثر ہوا، جبکہ کسی بھی قومی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے کم از کم 10 سے 15 سال تک پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔
اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اینڈ لانچ آف ڈویلپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومتیں تبدیل ہونے کے ساتھ ہی پورا پالیسی فریم ورک بدل دیا جاتا ہے، جس کے باعث وژن 2020 اور وژن 2025 جیسے منصوبے بھی سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو گئے۔
ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں کپتان بابر اعظم 58 رنز بناکربھی تنقید کی زد میں
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو تو بہترین منصوبے بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، جبکہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ٹوٹا ہوا سماجی و اقتصادی ڈھانچہ ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، سماجی اشاریوں میں بہتری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ساختی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ تعلیم، صحت، آبادی، نوجوانوں اور خواتین کو ترقی کا بنیادی ستون بنائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آبادی میں اضافے کو کنٹرول نہ کیا گیا تو 2050 تک یہ تعداد 37 سے 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی اور خوراک کا تحفظ شدید خطرات سے دوچار ہے، جبکہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں کو ہیپاٹائٹس فری ریجن بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی ہیپاٹائٹس فری بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو ہیپاٹائٹس فری بنانے میں تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔