لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ چند روز کے دوران دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے اور مختلف علاقوں میں سیلاب و اربن فلڈنگ کے خدشات کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 69 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 1 لاکھ 6 ہزار کیوسک ہے۔
ثالثوں کی امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کیلئے کوششیں
ترجمان نے بتایا کہ دریائے چناب کے مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد، دریائے راوی کے جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام کے مقامات پر پانی کا بہاؤ فی الحال معمول کے مطابق ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں اور دریائے سندھ میں تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر بھی پانی کا بہاؤ اس وقت نارمل سطح پر ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 24 جولائی تک پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ ندی نالوں، جن میں بسنتر، ڈیگ، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا شامل ہیں، میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور پاٹ میں موجود شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں متاثرین کو بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔
عمر عباس میلہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ موسم اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف غیر ضروری آمدورفت اور سیروتفریح سے گریز کریں، جبکہ والدین اپنے بچوں کو ہرگز دریاؤں اور برساتی نالوں میں نہانے یا کھیلنے کی اجازت نہ دیں۔