ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں کے دعوؤں نے خطے میں صورتحال مزید سنگین بنا دی، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرگرمیوں پر بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان حملوں سے ہونے والے نقصانات یا ممکنہ ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خلیج فارس کے ساحل پر واقع قصبے سرک کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ارنا نے بتایا کہ دھماکوں کے درست مقام کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، جبکہ بعض مقامی رپورٹس کے مطابق آوازیں سمندر کی سمت سے سنائی دیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کرمان کے علاقے رودبارِ جنوبی کی فضاؤں میں امریکی فوج کی جانب سے داغا گیا ایک کروز میزائل فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی حملے کیے گئے، جن میں میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات، فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مرحلہ وار کارروائیوں کا ایک اور سلسلہ مکمل کیا ہے، جس میں فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو ہدف بنایا گیا۔
بیان کے مطابق اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہوں سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور جاری ہے اور مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے۔
آزاد کشمیر میں اتنے ہی صاف شفاف انتخابات ہونگے جتنے پاکستان کے رہے ہیں: بلاول
سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے اور ایران کو جواب دہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین کے شہر محرق میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ رفاع میں نصب امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔
ایرانی بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ کویت میں امریکی ریڈار، مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے علی السالم ایئربیس پر موجود ایم کیو-9 ڈرون ہینگر اور احمد الجابر ایئربیس پر امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق ایک آئل ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں عمان کے علاقے لیما کے شمال مشرق میں تقریباً آٹھ سمندری میل کے فاصلے پر اسے نامعلوم سمت سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔
کویتی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔