لالک جان شہید نے کارگل میں دشمن پر دھاک بٹھائی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود محاذ نہیں چھوڑا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال بہادری کے اعتراف میں انہیں نشانِ حیدر سے نوازا، جبکہ فیلڈ مارشل، ایئر چیف اور نیول چیف نے بھی شہید حوالدار لالک جان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لالک جان شہید نے کارگل جنگ کے دوران مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہداءِ پاکستان کے مشن کو جرات، عزم اور وقار کے ساتھ جاری رکھنے کی مثال قائم کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 1999 میں آج ہی کے دن حوالدار لالک جان شہید نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے حملوں کو بے خوفی سے پسپا کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پوسٹ کا دفاع جاری رکھا اور انخلاء سے انکار کرتے ہوئے اس وقت تک لڑتے رہے جب تک فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت قبول نہ کر لی۔
بیان میں کہا گیا کہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم ان کی قربانی کو بے پناہ احترام اور تشکر کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ ان کی میراث پاکستان کی مسلح افواج کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ شہداء کی مقدس امانت کو برقرار رکھا جائے گا اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے شہداءِ پاکستان کے مشن کو جرات، لگن اور غیرت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔



