Gas Leakage Web ad 1

نیب کا کرپشن کیسز بند ہونے سے بچانے کیلئے قانون کی نئی تشریح پر غور

0

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) قانون کی ایک منفرد تشریح پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد بڑی تعداد میں بدعنوانی کے مقدمات کو بند ہونے سے بچانا ہے، کیونکہ مہنگائی میں اضافے کے باعث متعدد کیسز نیب کی نئی مالیاتی حد کے تحت اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو سکتے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

باخبر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز نیب میں زیر غور ہے، جسے پالیسی فیصلے کے لیے جلد ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

فیفا ورلڈکپ: بیلجیئم نے امریکا کو 1-4 سے بدترین شکست دیکر کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

تجویز کے مطابق، جس طرح مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کی مالیاتی حد 500 ملین روپے سے بڑھ کر 800 ملین روپے ہو گئی ہے، اسی اصول کا اطلاق متاثرہ فریق کو ہونے والے مبینہ مالی نقصان پر بھی کیا جائے۔ متاثرہ فریق میں کوئی فرد، سرکاری ادارہ یا قومی خزانہ شامل ہو سکتا ہے۔

اس قانونی تشریح کے تحت اگر کوئی ملزم یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ ترمیم شدہ قانون کے بعد مبینہ کرپشن کی رقم نئی مالیاتی حد سے کم ہونے کی وجہ سے نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو گئی ہے، تو دوسری جانب مبینہ طور پر خردبرد یا غبن کی گئی رقم کی موجودہ مالیت بھی مہنگائی کے فارمولے کے مطابق دوبارہ متعین کی جائے گی۔

اس صورت میں مبینہ مالی نقصان کی موجودہ قدر نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ مقدمہ دوبارہ نیب کے دائرۂ اختیار میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ مہنگائی سے متعلق قانون میں کی گئی ترمیم کا فائدہ صرف ملزم کو نہیں ملنا چاہیے، بلکہ مہنگائی کے باعث متاثرہ فریق کو ہونے والے مالی نقصان کی حقیقی قدر کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اگر ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے اور بعد ازاں نیب اسے اختیار کر لیتا ہے تو ترمیم شدہ مالیاتی حد کی وجہ سے بند ہونے والے کرپشن کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

دی نیوز کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق نیب آرڈیننس میں آخری ترمیم کے ذریعے 500 ملین روپے کی کم از کم مالیاتی حد کو محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کے اشاریوں سے یکم جولائی 2022 سے منسلک کر دیا گیا تھا۔

نیب ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران مجموعی مہنگائی کے باعث یہ حد بڑھ کر 800 ملین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس ترمیم کے بعد احتساب کے حلقوں میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ نئی حد سے کم مالیت والی متعدد انکوائریاں، تحقیقات اور ریفرنسز دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر بند یا واپس لینا پڑ سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نئی تجویز کا مقصد کسی نئی قانون سازی کے بجائے موجودہ قانونی شق کی تشریح کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ تاہم، ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر اس تجویز کو چیلنج کیا گیا تو اس کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، کیونکہ بالآخر عدالتیں ہی یہ طے کریں گی کہ آیا مہنگائی کے فارمولے کا اطلاق صرف نیب کی مالیاتی حد پر کیا جا سکتا ہے یا بدعنوانی کے مقدمات میں مبینہ مالی نقصان کی مالیت پر بھی اس کا اطلاق ممکن ہے۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور یہ تجویز نیب کی اعلیٰ قیادت کے زیر غور ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.