Gas Leakage Web ad 1

سانحہ گل پلازہ، پولیس نے تیسری بار چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا

0

سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس نے تیسری بار چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا، تاہم پراسیکیوشن کے سابقہ اعتراضات بدستور دور نہیں کیے جا سکے۔

Gas Leakage Web ad 2

قائم مقام ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے چالان عدالت میں پیش کیا۔ چالان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی، جبکہ یونین کے چار عہدیداروں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

چالان کے مطابق آگ دکان نمبر 193 سے بھڑکی تھی۔ مقدمے میں پولیس، فائر بریگیڈ، متاثرین اور ریسکیو 1122 اہلکاروں سمیت 60 گواہان کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی قید تنہائی سے متعلق درخواستوں پر اہم پیشرفت

پولیس کے مطابق دکان کا مالک نعمت اللہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کرکے چلا جاتا تھا۔ واقعے کے روز حذیفہ ماچس سے کھیل رہا تھا، جس کے باعث مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق آتشزدگی کے وقت دکاندار نعمت اللہ موقع پر موجود نہیں تھا، جبکہ مارکیٹ یونین کے عہدیداروں کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن پر بروقت اطلاع دے کر مدد طلب نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق بروقت اطلاع نہ ملنے کے باعث 72 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے۔ اس سانحے میں 1153 دکانیں اپنے سامان سمیت جل کر خاکستر ہو گئیں۔

تحقیقات کے دوران یونین عہدیداروں کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا، جس میں کسی بھی ایمرجنسی نمبر پر بروقت کال کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ یونین کمیٹی کی جانب سے کم عمر بچے کو دکان پر بٹھانے سے نہ روکنا بھی غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کم عمر ملزم حذیفہ کے خلاف جوینائل قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ مقدمے میں قتل بالسبب، غفلت کے باعث نقصان، آتشزدگی اور املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

چالان میں یونین صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، حذیفہ، نعمت اللہ اور دیگر افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نعمت اللہ اس دکان کا مالک ہے جہاں سے آگ لگنے کا آغاز ہوا تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.