پشاور: خیبرپختونخوا کے فنانس بل 2026 کی کاپی موصول ہوگئی ہے جس میں مختلف شعبوں پر نئے ٹیکسوں، فیسوں اور محصولات سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔

مجوزہ فنانس بل کے مطابق اگر قانون منظور ہو جاتا ہے تو یکم جولائی 2026 سے نئے مالیاتی اقدامات نافذ العمل ہوں گے۔
دستاویز میں رہائشی املاک کے مالکان کو ٹیکس بقایاجات کی یکمشت ادائیگی پر تیس فیصد رعایت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رعایت 30 جون 2026 تک کے بقایاجات پر لاگو ہوگی، تاہم اس کا فائدہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب ادائیگی 31 دسمبر 2026 تک مکمل کر دی جائے۔
ایران کے معاملے میں چین نے اہم کردار ادا کیا، رواں برس دوبارہ چین جاؤنگا: ڈونلڈ ٹرمپ
ہوٹل انڈسٹری کے لیے بھی نئی ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک ہوٹلوں پر کمرہ کرایہ کا پانچ فیصد جبکہ اس نظام سے غیر منسلک ہوٹلوں پر دس فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے مطابق کم آمدنی رکھنے والے افراد کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز ہے جبکہ زیادہ آمدنی والے افراد کے لیے مختلف سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ تین لاکھ روپے سے زائد ماہانہ آمدنی پر سالانہ پانچ ہزار پانچ سو روپے پروفیشنل ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
مجوزہ فنانس بل میں سرکاری ملازمین، نجی تعلیمی اداروں، اسپتالوں، کمپنیوں، جیولرز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، پیٹرول پمپس اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی نئے پروفیشنل ٹیکس ریٹس شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق ماہانہ پانچ ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکولوں، نجی میڈیکل، انجینئرنگ اور لاء کالجز پر ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس تجویز کیا گیا ہے، جبکہ پچاس سے زائد ملازمین رکھنے والے نجی اسپتالوں پر بھی یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فنانس بل میں صوبائی آمدنی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاہم ان تجاویز کا حتمی اطلاق صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔



