گوگل کا اے آئی پر مبنی سرچ نتائج میں بڑی تبدیلی کا اعلان
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی سرچ نتائج میں ویب سائٹس اور خبروں کے لنکس کو زیادہ نمایاں کرنے اور انہیں نتائج میں اوپر دکھانے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ فیصلہ خبر رساں اداروں اور مختلف برانڈز کی جانب سے ویب سائٹس پر آنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی کے خدشات اور شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گوگل کی پیرنٹ کمپنی ’الفابیٹ‘ نے دو سال قبل اپنے سرچ انجن میں اے آئی فیچرز شامل کرنا شروع کیے تھے۔ 2024 میں گوگل نے ’اے آئی اوور ویوز‘ متعارف کرایا تھا، جس میں روایتی لنکس کی فہرست دکھانے کے بجائے صارفین کے سوالات کے جوابات کا خلاصہ پیش کیا جاتا تھا۔
پنجاب اور کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کا فوری الیکشن شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ
بعد ازاں مارچ 2025 میں گوگل نے ’اے آئی موڈ‘ متعارف کرایا، جو ایک علیحدہ ونڈو میں کھلتا ہے اور صارفین کو زیادہ تفصیلی معلومات اور متعلقہ لنکس فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ ان خلاصوں کے باعث صارفین کی جانب سے اصل ویب سائٹس پر جانے کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
میڈیا اور ویب سائٹ ٹریفک کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’چارٹ بیٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران گوگل کے ذریعے خبروں کی ویب سائٹس پر آنے والی ٹریفک میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان خدشات کے پیشِ نظر گوگل نے اب اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اے آئی سے تیار کردہ جوابات میں متعلقہ ویب سائٹس کے لنکس زیادہ تعداد میں اور زیادہ نمایاں انداز میں دکھائے جائیں گے۔
اس کے علاوہ، گوگل اپنے ’لنک کیپشنز یا کیروسل‘ فیچر کو عالمی سطح پر وسعت دے رہا ہے، جس کے تحت ’اے آئی اوور ویوز‘ کے عین نیچے تصاویر اور سرخیوں کے ساتھ متعلقہ مضامین کے کارڈز بھی دکھائی دیں گے۔
گوگل کا الگورتھم ان ویب سائٹس کو ترجیح دے گا جنہیں صارفین نے اپنے ’پسندیدہ ذرائع‘ کے طور پر منتخب کر رکھا ہوگا۔ اس فیچر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن فورمز پر شائع ہونے والی تحریروں کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔
الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی کے مطابق، 2025 کی دوسری سہ ماہی تک 200 سے زائد ممالک میں ’اے آئی اوور ویوز‘ استعمال کرنے والے ماہانہ صارفین کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر چکی تھی۔
کمپنی کو امید ہے کہ ان نئی تبدیلیوں کے ذریعے ان صارفین کے لیے متعلقہ ویب سائٹس کے لنکس تک رسائی زیادہ آسان اور پرکشش ہو جائے گی جو کسی موضوع کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔



