Gas Leakage Web ad 1

اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: محققین

0

جرنل دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انسانیت کی بقا اور انسانی صحت کو لاحق 17 بڑے تباہ کن خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان خطرات کا تعلق بیماریوں، سماجی و معاشی حالات، ماحولیاتی تبدیلیوں، جدید ٹیکنالوجی اور تنازعات سے ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

رپورٹ کے مطابق ان میں دو ایسے بڑے خطرات شامل ہیں جو انسانیت کی بقا کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں، جبکہ مزید 15 خطرات انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے دوران 204 ممالک اور خطوں میں سیکڑوں ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے ہمیں زخم دیا ہے، دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام مسترد کرتا ہوں ،بیرسٹر گوہر
رپورٹ میں فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں، الکحل کے استعمال، قدرتی متعدی وباؤں، موٹاپے، تمباکو نوشی اور ذہنی صحت کے مسائل سمیت متعدد عوامل کو انسانی صحت کے لیے بڑے خطرات قرار دیا گیا ہے۔

محققین نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ انسانیت کی بقا اور صحت کو لاحق سنگین خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق صحت، معیشت، ماحولیات، دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں کیے جانے والے فیصلے مستقبل کی نسلوں کی صحت اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

رپورٹ میں محققین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ ان خطرات کی شدت سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ان سے نمٹنے کے لیے اب تک مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج عالمی رہنماؤں کے فیصلے آنے والی نسلوں کی صحت کا تعین کریں گے، جبکہ بروقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں مستقبل میں خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

محققین نے ہر خطرے کے باعث بیماری، معذوری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے ضائع ہونے والے صحت مند زندگی کے سالوں کا بھی تخمینہ لگایا۔ انہوں نے طبی نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کے متنوع شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ خطرات ناگزیر نہیں ہیں۔ مؤثر حکمت عملی، بروقت فیصلوں اور عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے ان کے اثرات کو کم کرنے اور مستقبل کی نسلوں کو محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.