بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک درخواست ارسال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ راولپنڈی فیز 8 کی ترقی یافتہ اراضی پر غیر قانونی قبضے اور زبردستی باڑ بندی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو اپنی قانونی ملکیت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
14 جون 2026 کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام لکھے گئے خط میں بحریہ ٹاؤن نے مؤقف اختیار کیا کہ فیز 8 اور اس سے ملحقہ علاقوں کی اراضی کمپنی کی قانونی ملکیت ہے، جس کا ریونیو ریکارڈ موجود ہے اور بحریہ ٹاؤن طویل عرصے سے اس پر قانونی اور پُرامن قبضے میں ہے۔ درخواست کے مطابق کمپنی نے اس علاقے میں انفراسٹرکچر، سڑکوں، سہولیات، سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
کراچی پورٹ نے کنٹینر ہینڈلنگ کا نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ 13 جون 2026 کو بعض سرکاری اور سابق فوجی حکام، دیگر افراد، پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی گارڈز اور بھاری مشینری کے ہمراہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی میں داخل ہوئے اور بغیر کسی عدالتی حکم، قانونی اختیار یا ریونیو حد بندی کے کمپنی کے سیکیورٹی عملے کو ہٹا کر زمین کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ خط کے مطابق متعلقہ افراد نے اراضی کے گرد باڑ اور رکاوٹیں بھی کھڑی کر دیں۔
بحریہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ اگر کسی فریق کو اراضی پر دعویٰ ہے تو اس کا فیصلہ صرف مجاز سول یا ریونیو فورم کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت یا زبردستی کے ذریعے۔ کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے جائیداد کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
درخواست میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ پولیس حکام کو تحقیقات کا حکم دیا جائے، اراضی کی ریونیو حد بندی اور موقع پر جانچ کرائی جائے، مزید کسی بھی قبضے یا تعمیراتی سرگرمی کو روکا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بحریہ ٹاؤن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ریونیو ریکارڈ، ویڈیوز، تصاویر، معائنہ رپورٹس اور متعلقہ اداروں کو دی گئی شکایات سمیت مختلف شواہد موجود ہیں، جبکہ کمپنی نے اپنے قانونی قبضے، جائیداد کے حقوق اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے حکومتی مداخلت کی درخواست بھی کی ہے۔