Gas Leakage Web ad 1

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے سے زائد کمی کا امکان

0

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی توقعات بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی منڈی کے اثرات کے باعث ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا قومی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اہم پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید 5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل 76 اور برطانوی تیل 79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

وفاقی بجٹ: وزیراعظم آفس کی تزئین و آرائش کیلئے 15 کروڑ 33 لاکھ روپے مختص

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت فوری طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی کا رجحان مزید مضبوط ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 73 ڈالر کے لگ بھگ تھی جو جنگ کے دوران بلند ترین سطح 126 ڈالر سے اوپر بھی گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتوں میں اضافے کے وقت یقین دہانی کرائی تھی کہ حالات معمول پر آتے ہی عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ دو روز قبل قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جنگ سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ دباؤ آیا، پاکستان کے عوام نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، قوم کو ممکنہ مہنگائی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور عالمی معاشی حالات کی بہتری کے اثرات عوام تک پہنچائے جائیں گے۔

بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں 100 روپے سے زیادہ یا 150 روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ کمی ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔ اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی سے قبل ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 266 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 280 روپے تھی۔ ملک میں پیٹرول کی موجودہ قیمت 373 روپے 78 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.