لاہور: پنجاب کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس تعمیر کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے مطابق صوبے کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 57 سرکاری اسپتالوں کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ واسا کو فائر ہائیڈرنٹس کے لیے اہم مقامات کی نشاندہی کرنے اور ان کی تعمیر کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔
کراچی: بچوں کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں ایمرجنسی ایگزٹس بند ہونے کا انکشاف
مراسلے میں سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے اقدامات پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی قوانین، قواعد و ضوابط اور مقررہ معیار کی مکمل پابندی کی جائے، جبکہ تمام اسپتال فیسلٹی مینجمنٹ اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق ہدایات پر بھی عملدرآمد یقینی بنائیں۔
مراسلے کے مطابق اسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستوں اور نقشوں سمیت عمارت کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے۔
پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کو سرکاری اور نجی اسپتالوں کے فائر سیفٹی معائنے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسپتالوں کی تفصیلات پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
مزید برآں مراسلے میں اسپتال انتظامیہ کو تربیت یافتہ عملے کی موجودگی اور باقاعدگی سے فائر سیفٹی ڈرلز کا انعقاد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ سی ڈی اے کے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پمز اسپتال میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے انتظامات ناکافی تھے۔