لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے گواہوں کو عدالت میں طلب کرنے سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر مقدمے کے دوران نئے سوالات یا ضروری قانونی پہلو سامنے آئیں تو گواہوں کی نئی فہرست جمع کرانا لازمی نہیں۔
یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے شہری رضوان رشید کی درخواست پر جاری کیا، جس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی قوانین کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی کو آسان بنانا ہے، نہ کہ شہریوں کو تکنیکی پیچیدگیوں میں الجھا دینا۔
آزاد کشمیر کا امن خراب کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن،72افراد گرفتار
فیصلے میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے تکنیکی بنیادوں پر درخواست مسترد کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی فریق اپنے ہی درج شدہ گواہ کو عدالت میں پیش نہ کرے تو دوسرا فریق اس گواہ کو طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو بینک مینیجر کو بطور گواہ طلب کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار کے پاس بینک مینیجر کو بطور گواہ بلانے کی معقول اور ٹھوس وجہ موجود تھی۔ چونکہ بینک مینیجر کا نام پہلے ہی گواہوں کی فہرست میں شامل تھا، اس لیے درخواست گزار نے اسے اپنی علیحدہ فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مخالف فریق کی جانب سے اپنے گواہ کو عدالت میں پیش نہ کرنے کے باعث درخواست گزار کو مجبوراً بینک مینیجر کو خود بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست دائر کرنا پڑی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے بینک مینیجر کو گواہ بنانے کی درخواست مسترد کرنا غلط فیصلہ تھا اور یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا۔