پنجاب میں زرعی ٹیکس کے نام پر آئین شکنی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بڑا چیلنج دائر کر دیا گیا ہے۔
یہ درخواست جوڈیشل ایکوٹیزم پینل اور پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ ایم پی اے اور محمد اعجاز شفیع ایم پی اے (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
وزیراعظم آسان ٹیکس اسکیم پر تاجروں کے مطالبے پر غور کریں گے، وزیرمملک کی یقین دہانی
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے اسمبلی کی منظوری کے بغیر زرعی ٹیکس نافذ کیا، جو آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر آئینی عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے اسمبلی کو بائی پاس کرتے ہوئے زرعی ٹیکس میں اضافہ کیا، اور کسانوں پر غیر آئینی بوجھ ڈالا گیا۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کسانوں سے وصول کیے گئے مبینہ اربوں روپے واپس کیے جائیں اور تمام نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
درخواست گزاروں نے زرعی ٹیکس نظام کی آئینی حیثیت کو بھی چیلنج کیا ہے اور آئی ایم ایف سے ہونے والی خط و کتابت کو منظر عام پر لانے کی درخواست کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے آئینی تقاضے پورے کیے بغیر کسانوں پر بوجھ ڈالا، جس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، اس لیے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔