Gas Leakage Web ad 1

پاکستان میں پانچ ہزار سے زائد خواتین فسٹولا کے مرض میں مبتلا، ماہرین کا 2030 تک خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر زور

0

ملتان میں ماہر معالج یورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق انجم نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانچ ہزار سے زائد خواتین فیسٹولا کے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں 20 لاکھ سے زیادہ خواتین اس تکلیف دہ بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماں بننے والی خواتین کی اموات اور مختلف پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے معیاری نگہداشت تک عالمی سطح پر رسائی کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ 90 فیصد کیسز میں زچگی کے دوران فسٹولا کے باعث مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں، تاہم اب یہ مرض نہ صرف قابل علاج ہے بلکہ اس کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

وزیراعظم آسان ٹیکس اسکیم پر تاجروں کے مطالبے پر غور کریں گے، وزیرمملک کی یقین دہانی

انہوں نے یہ بات ورلڈ فسٹولا ڈے کے موقع پر ماہر گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مسعود، پروفیسر ڈاکٹر ثوبیہ مظہر اور کوآرڈینیٹر ریجنل فیسٹولا سینٹر ملتان نسیم اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا پاپولیشن فنڈ یو این ایف پی اے اور فسٹولا فاؤنڈیشن ہر سال 23 مئی کو فسٹولا کے خاتمے کا عالمی دن مناتے ہیں اور اسی سلسلے میں پاکستان میں بھی اس دن کے موقع پر آگاہی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر زچگی کے دوران خواتین کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں تو انہیں فسٹولا جیسے مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق انجم نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت بھی پانچ ہزار سے زائد خواتین فسٹولا کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے علاج معالجے کی محفوظ اور جامع سہولیات تک رسائی کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک فسٹولا کے خاتمے کے لیے سوچ میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے اور اس ضمن میں غیر مستند معالجین کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سجاد مسعود اور ڈاکٹر ثوبیہ مظہر نے کہا کہ خواتین کی صحت ان کا بنیادی حق ہے اور فسٹولا سے پاک مستقبل کا حصول ان کا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حمل اور زچگی کے دوران معیاری طبی سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق فسٹولا کی روک تھام اور علاج کے لیے صحت کے نظام میں بہتری کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہوگی جبکہ سماجی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی عوامل کو بھی سمجھنا اور حل کرنا ضروری ہے جو زچگی کی صحت اور تولیدی حقوق پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنیادی صحت مراکز اور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں تربیت یافتہ اور ہنر مند مڈ وائفز کی دستیابی ضروری ہے، ان کی تنخواہوں میں اضافہ اور باقاعدہ سروس اسٹرکچر فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.