اسلام آباد: ایکٹ الائنس کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے حکومت پاکستان، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے غیر قانونی تمباکو صنعت کے خلاف جاری مسلسل کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس چوری کے خلاف مضبوط اور مستقل اقدامات پاکستان کی ٹیکس آمدنی، قانونی کاروبار اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
مبشر اکرم نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹ سازی، نان ڈیوٹی پیڈ مصنوعات، اسمگل شدہ برانڈز اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی خلاف ورزیوں کے خلاف حالیہ حکومتی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دستاویزی معیشت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔
غیر قانونی ڈاکٹرز ہو جائیں تیار ، PM&DC کی بغیر رجسٹریشن پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کو بڑی وارننگ
انہوں نے کہا، “غیر قانونی تمباکو صنعت ہر سال پاکستان کی ٹیکس آمدنی سے 300 ارب روپے سے زیادہ چوری کرتی ہے۔ غیر قانونی سگریٹ کے کاروبار کا اصل حجم اس ٹیکس چوری سے تین سے چار گنا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ، گودام، ترسیل، ریٹیل فروخت، نقد ادائیگیاں اور اس جرم کے نیٹ ورک کے تحفظ کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔”
مبشر اکرم نے کہا کہ پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ غیر قانونی سگریٹ کو ایک معمولی قانونی خلاف ورزی سمجھا جائے۔ “یہ منظم معاشی تخریب کاری ہے۔ ٹیکس کے بغیر فروخت ہونے والا ہر غیر قانونی سگریٹ پیک قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے، قانونی کاروبار کو کمزور کرتا ہے اور ریاستی نفاذی نظام کی ساکھ متاثر کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایکٹ الائنس حکومت کے حالیہ اقدامات کی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کوششوں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “وزیر اعظم اور ایف بی آر اس بات پر تعریف کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک مشکل مارکیٹ میں قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا، جہاں غیر قانونی کاروبار کو طویل عرصے سے کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ اب اصل چیلنج تسلسل برقرار رکھنا ہے اور یہ ضروری ہے کہ کارروائی کو ریاستی نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے۔”
مبشر اکرم نے مزید کہا کہ غیر قانونی تمباکو صنعت کے خلاف کارروائی کو غیر قانونی معیشت کی تمام شکلوں، جن میں اسمگلنگ، جعل سازی، انڈر انوائسنگ، نان ڈیوٹی پیڈ اشیا اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چوری شامل ہے، کے خلاف ایک وسیع قومی مہم کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
ان کے مطابق غیر قانونی معیشت کے خلاف مختلف شعبوں میں مستقل کارروائی پاکستان کی مالی صورتحال کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “اگر پاکستان مختلف شعبوں میں غیر قانونی کاروباروں پر دباؤ برقرار رکھتا ہے تو وقت کے ساتھ ملک ٹیکس آمدنی کی مد میں بہت بڑی رقوم حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے قومی ٹیکس آمدن میں کئی ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے اور مارکیٹ میں قانونی سرمائے کی گردش بھی بڑھے گی۔”
انہوں نے مزید کہا، “جو سرمایہ اس وقت غیر قانونی اور غیر دستاویزی ذرائع سے گردش کر رہا ہے، اسے قانونی معیشت میں واپس آنا چاہیے تاکہ یہ سرمایہ کاری، روزگار، ٹیکس اور ترقی میں معاون ثابت ہو سکے۔”
مبشر اکرم نے کہا کہ قانونی کارروائی کا تعلق پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے بھی براہ راست وابستہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہونے کے باعث پاکستان ایک بڑی صارف مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور وسیع کاروباری مواقع رکھتا ہے، تاہم سرمایہ کار صرف آبادی کا حجم نہیں دیکھتے بلکہ وہ یہ بھی جانچتے ہیں کہ آیا ریاست قوانین نافذ کر سکتی ہے، قانون پر عمل کرنے والے کاروباروں کا تحفظ کر سکتی ہے اور غیر قانونی کاروبار کو مارکیٹ پر قبضہ کرنے سے روک سکتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا، “ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں کون غالب رہتا ہے، قانونی کاروبار یا غیر قانونی مافیا۔ اگر ریاست ٹیکس دینے والے کاروباروں کا تحفظ کرے گی تو سرمایہ کار پاکستان کو ایک منظم مارکیٹ تصور کریں گے۔ اگر غیر قانونی کاروبار دباؤ استعمال کر کے قانونی کارروائی روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سرمایہ کار اسے خطرے کی علامت سمجھیں گے۔”
مبشر اکرم نے میڈیا رپورٹس پر تشویش ظاہر کی کہ غیر قانونی سگریٹ تجارت میں ملوث عناصر ایف بی آر حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف سیاسی، انتظامی یا دیگر نوعیت کا اثر و رسوخ استعمال کر کے کارروائیوں کو روکنے یا سست کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ صورتحال انتہائی نقصان دہ ہوگی۔ اگر غیر قانونی سگریٹ کاروبار سے وابستہ افراد دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے حکومت کی حیثیت کمزور ہوگی اور پاکستان کی ساکھ ان لوگوں کے سامنے متاثر ہوگی جو ملک میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری لانے کے ذمہ دار ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “کوئی بھی سرمایہ کار ایسی مارکیٹ میں داخل ہونا پسند نہیں کرے گا جہاں ٹیکس چور اثر و رسوخ کے ذریعے قانونی کارروائی پر اثرانداز ہو سکیں کیونکہ اسے غیر قانونی معیشت کے خلاف ریاستی کمزوری تصور کیا جائے گا۔”
مبشر اکرم نے حکومت پر زور دیا کہ ایف بی آر اور کسٹمز افسران، ان لینڈ ریونیو حکام اور دیگر عملے کو دباؤ اور دھمکیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کاروباروں کے خلاف کارروائی کرنے والے افسران صرف چھاپے نہیں مار رہے بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کا دفاع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ افسران پاکستان کے ٹیکس بیس اور غیر قانونی سگریٹ مافیا کے درمیان کھڑے ہیں۔ انہیں مکمل ادارہ جاتی حمایت، سیاسی پشت پناہی اور عوامی سطح پر اعتراف ملنا چاہیے۔”
ایکٹ الائنس نے سگریٹ صنعت میں ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور ایف بی آر، پاکستان کسٹمز، ان لینڈ ریونیو، صوبائی انتظامیہ، پولیس، رینجرز اور ضلعی حکام کے درمیان مضبوط رابطوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
مبشر اکرم نے کہا، “پاکستان ہر سال غیر قانونی معیشت کی وجہ سے کھربوں روپے کھو دیتا ہے۔ صرف سگریٹ کا شعبہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر نقصان دہ صورت اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کو کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔”
آخر میں انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کا پیغام واضح ہونا چاہیے۔ “ریاست قانونی کاروبار کے ساتھ کھڑی ہے، ٹیکس چوروں کے ساتھ نہیں۔ قانون پر عمل کرنے والوں کا تحفظ کیا جائے گا جبکہ غیر قانونی تجارت کو سزا دی جائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنی ٹیکس آمدن میں اضافہ کر سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔”