صدرِ مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان پہنچ گئے، جہاں کرغز قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں پاک-کرغز تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور گزشتہ دسمبر میں کرغز صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے سیاسی رابطوں، پارلیمان، حکومتوں اور وزارتِ خارجہ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں خصوصی توجہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ کا پہلا بڑا فیصلہ، 89 ڈاکٹرز ریگولر
مشترکہ اعلامیے کے مطابق متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کریں، جبکہ مشترکہ بین الحکومتی کمیشن اور ورکنگ گروپس کو مزید فعال اور مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے، خصوصاً کاسا-1000 منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کی، جسے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان توانائی رابطے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
ملاقات میں کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، ہلکی صنعت، حلال انڈسٹری، صحت، ادویات سازی، طبی تعلیم، ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات کی تیاری، ڈیجیٹل معیشت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، بینکاری اور مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ روابط بہتر بنانے، پاکستان کی بندرگاہوں کے مؤثر استعمال اور کرغزستان کی ٹرانزٹ صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی ایشیائی اور یوریشین اکنامک یونین کی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر بھی اتفاق کیا۔
تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں، طبی اور صحتِ عامہ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے علاوہ دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، غیر قانونی ہجرت اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے خطے اور دنیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں کرغزستان کی ترجیحات کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ کرغز صدر نے 2027-28 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے انتخاب میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعاون اور روابط کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے خطے میں امن اور محفوظ ماحول ناگزیر ہے۔
وفود کی سطح پر مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کو مل کر ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ماضی میں شاہراہِ ریشم کے ذریعے ایک دوسرے کے زیادہ قریب تھے۔
صدر زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان مناسب قیمتوں پر اپنی مصنوعات کرغزستان کو فراہم کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔