پاکستان نے دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک بڑی قانونی جنگ جیت لی ہے۔
عدالت نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحت آنے والے دریاؤں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے حساب کتاب کے طریقہ کار پر پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں خوارج کے خلاف آپریشن جاری، 6 دہشتگرد ہلاک، 7 فوجیوں کی شہادت کی خبر جھوٹ قرار
کیس کی حساس نوعیت کے باعث اگرچہ یہ فیصلہ ابھی باضابطہ طور پر شائع نہیں کیا گیا، تاہم اسلام آباد میں اسے ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے ثالثی عدالت میں بھارت کے اس طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ طریقہ بھارت کو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ اجازت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
وزارت پانی و بجلی کے ایڈیشنل سیکرٹری اور ترجمان سید مہر علی شاہ نے بتایا کہ ٹریبونل نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر ان بنیادوں پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا تعین نہیں کر سکتا جنہیں پاکستان نے ’’مصنوعی‘‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
عدالت میں بھارت کے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن کے معاملے پر دلائل دیے گئے تھے اور عدالت نے یہ فیصلہ 15 مئی کو جاری کیا۔
پاکستان کے مطابق یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی پانی کنٹرول صلاحیت پر واضح حدود موجود ہیں اور بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ پانی کا ذخیرہ بڑھ چکا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت پر لازم ہے کہ معاہدے کے جائزے کے لیے پاکستان کو مکمل معلومات فراہم کرے جبکہ عدالتی فیصلے نے پاکستانی مؤقف کو سائنسی، آبی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مزید مضبوط کر دیا ہے۔