Gas Leakage Web ad 1

ایف بی آر کا سگریٹ انڈسٹری میں کریک ڈاؤن سے مثبت نتائج سامنے انا شروع ہو گئے ہیں, مبشر اکرم، ایکٹ الائنس پاکستان

0

اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مؤثر کارروائیوں کے باعث رواں مالی سال سگریٹ انڈسٹری سے تقریباً 50 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس بات کا اظہار ایکٹ الائنس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے ایک بیان میں کیا ۔ مبشر اکرم کے مطابق سگریٹ سیکٹر سے ٹیکس ریونیو بڑھانے میں اصل رکاوٹ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ غیر قانونی سگریٹ تجارت کا حجم ہے۔ انہوں نے کچھ این جی اوز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال وفاقی بجٹ سے قبل بعض این جی اوز سگریٹسں پر ٹیکس بڑھانے کے ون پوائنٹ ایجنڈا کے تحت لابنگ شروع کر دیتے ہیں، جبکہ وہ غیر قانونی مقامی سگریٹ انڈسٹری اور ٹیکس چوری کے خلاف ہمیشہ خاموش رہتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہی این جی اوز کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ سیکٹر کا حجم تقریباً 35 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس وقت سالانہ سگریٹ مارکیٹ 80 ارب سگریٹوں پر مشتمل ہے تو اس طرح این جی اوز کے اعدادوشمار کے مطابق بھی تقریباً 28 ارب غیر قانونی سگریٹ پاکستان میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ان اعدادوشمار کے مطابق بھی قومی خزانے کو کم از کم 118 ارب روپے سالانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ جو پھر بھی پاکستان کی معاشی صورتحال کے لیے خطرناک ہے۔
مبشر اکرم نے مزید کہا کہ غیر قانونی سگریٹ تجارت کی مجموعی وجہ سے پاکستان کو اصل سالانہ 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ پر ٹیکس میں مسلسل اضافے سے قانونی اور ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں کے سگریٹ برانڈز مہنگی ہو جاتے ہیں، اور پاکستان کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ صارفین قانونی سگریٹوں کے بجاے سستے اور بغیر ٹیکس ادا شدہ سگریٹوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سگریٹوں پر ٹیکس بڑھانے کا اصل فائدہ ان مقامی غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کو ہوتا ہے جو ٹیکس ادا نہیں کرتیں اور غیر قانونی طریقے سے مارکیٹ میں اپنے سگریٹ کم از کم قیمت سے بھی کم پر فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کے حالیہ کریک ڈاؤن پر این جی اوز کیوں خاموش ہیں۔ آج تک کبھی بھی ان این جی اوز نے
ایکٹ الائنس پاکستان کے مطابق اس وقت ملک بھر میں موجود 477 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 22 برانڈز مکمل طور پر قانون اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ مبشر اکرم نے مزید کہا کہ این جی اوز کی جانب سے آج تک ان غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف کبھی بھی بات نہیں کی گئ۔ مبشر اکرم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس پالیسی کو زمینی حقائق کے مطابق معاشی اور ٹیکس ماہرین تیار کریں نہ کہ ایک جی اوز۔ سگریٹوں پر شرح بڑھانے کے بجائے غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں، اسمگلنگ، نان ڈیوٹی پیڈ اسٹاک اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں تاکہ قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کو روکا جا سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.