صوبائی صدر کے ساتھ اختلافات کے باعث جوائنٹ سیکرٹری انجینئر خائستہ محمد نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
انجینئر خائستہ محمد نے کہا ہے کہ پارٹی میں اس وقت ڈکٹیٹرشپ کا ماحول ہے اور اہم فیصلے کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
بموں کو ناکارہ بنانے کے دوران پاسداران انقلاب کے 14 اہلکار شہید
انہوں نے کہا کہ پارٹی پالیسی اور تنظیمی معاملات میں کابینہ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی صدر کی جانب سے ملاکنڈ ریجن کے عہدیداروں کا نوٹیفکیشن بھی کابینہ سے مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا۔
انجینئر خائستہ محمد کے مطابق اگر تمام فیصلے ایک ہی فرد کرے گا تو پھر کابینہ کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے نظریے کے مطابق اختیارات ایک فرد کے پاس نہیں بلکہ پوری کابینہ کے پاس ہونے چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آ رہیں، اور وہ تقریباً 3 سال سے ناحق قید میں ہیں، مگر لیڈرشپ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
انجینئر خائستہ محمد نے کہا کہ پارٹی لیڈرشپ کے پاس بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، اور پارٹی میں فیصلے فرد واحد کر رہا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔