Gas Leakage Web ad 1

ویسٹ مینجمنٹ کی انڈسٹری

رضوان عباسی، بیجنگ

0

چین نے گزشتہ دہائیوں میں تیزی سے صنعتی ترقی کی ہے اور اس کی شہری آبادی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث یہاں صنعتی فضلے اور دیگر ویسٹ میٹریل کی مقدار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے چین نے جدید ٹیکنالوجی، پالیسی اصلاحات اور عوامی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو خاطر خواہ طریقے سے بہتر بنایا ہیں۔ چین کی حکومت نے ویسٹ مینجمنٹ کا ملک گیر پلان بنایا، جسے اب ملک کے بیشتر شہروں میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ماحولیاتی حکمرانی کی ان ہی کوششوں کے تحت جنوبی چین کے شہر شینزن میں ایک طویل عرصے سے بند پڑی لینڈفل سائیٹ اب بجلی کی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے میٹریل کی فراہمی کا نیا ذریعہ بن رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحولیاتی بحالی کی ایک مثال ہے بلکہ شہری ترقی اور پائیداری کے نئے ماڈل کی بھی عکاسی کرتا ہے۔یہ مقام کبھی شینزن کا سب سے بڑا کوڑے کا ڈھیر تھا۔ کچھ وقت قبل اسے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، اس وقت تک یہاں تقریباً پچیس لاکھ مکعب میٹر کچرا جمع ہو چکا تھا۔ دو دہائیوں تک غیر فعال رہنے والا یہ مقام شہر کی تیز رفتار توسیع اور قریبی آبادیوں کے لیے دیرینہ ماحولیاتی خدشات کی علامت بنا رہا۔ پھر زمین کی محدود دستیابی کے باعث شینزن کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ترقی کے لیے جگہ بھی پیدا کرے۔اسی تناظر میں دو سال قبل تین سو ملین ڈالر کی لاگت سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا، جس کے تحت اب پوری لینڈفل کو کھود کر فضلے کو جدید طریقوں سے علیحدہ اور پراسیس کیا جا رہا ہے۔ اس عمل سے روزانہ زیادہ سے زیادہ چونتیس لاکھ کلوواٹ گھنٹے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جو ہزاروں گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔کچرا جلانے کے بعد بچنے والی راکھ اور سلیگ کو خصوصی پراسیسنگ پلانٹس میں بھیجا جاتا ہے، جہاں اسے ماحول دوست اینٹوں میں تبدیل کیا جاتا ہے جو سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہیں۔ یوں اس شہر میں کچرے کو مکمل طور پر وسائل میں بدلنے کا عمل عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔
چین کے مختلف شہروں میں ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت کچر ے کی چھانٹی کے حوالے سے اسے چار کیٹگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے: ری سائیکل ایبل یعنی پلاسٹک، شیشے اور کاغذ، پیریشیبل یعنی فوڈ ویسٹ، خطرناک مواد، اور باقیات یعنی غیر خطرناک فضلہ جسے دوبارہ استعمال یا ری سائیکل نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں رہتے ہوئے میں نے اس چیز کا مشاہدہ کیا کہ آپ بیجنگ میں کہیں بھی جائیں، آپ کو ہر جگہ تین یا چار الگ الگ طرح کے کچرے کے ڈبے نظر آئیں گے۔ مختلف اقسام کا یہ کچرا اس کے بعد سارٹنگ سٹیشنز میں پہنچایا جاتا ہے جہاں اس کی ایک دفعہ پھر درجہ بندی کی جاتی ہے، اس کے بعد جس حصے کو ری سائیکل کرنا ہوتا ہے اسے الگ مقام کی طرف بھیجا جاتا ہے، دیگر سے بائیو گیس اور ایندھن بنایا جاتا ہے اور کچھ کو تلف کیا جاتا ہے۔ اس سارے عمل کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کچرے کو دوبارہ مختلف مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس طرح اک سمارٹ ایکو سسٹم وجود میں آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ مجموعی طور پر ملک بھر میں کچرے کی مقدار میں خاطر خواہ کمی آتی ہے اور اسے تلف کرنے کے عمل میں ذیادہ گیس ماحو ل میں خارج نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ ساتھ چین میں پلاسٹک کے استعمال کے حوالے سے بھی انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، روزمرہ کے پلاسٹک کے شاپرز کی پروڈکشن میں کمی کی گئی ہے ، اس کی جگہ بائیو ڈی گریڈایبل بیگز استعمال ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی شاپنگ سنٹر میں کوئی چیز خریدیں، آپ کو اس کے لئے شاپنگ بیگ اکثر خود خریدنا پڑتا ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یوں چین نے ویسٹ میٹریل کی پیداوار میں بھی کمی کی ہے اور پھر ویسٹ مینجمنٹ کے ملک گیر مربوط سسٹم کے تحت اسے ایک قیمتی ریسورس میں تبدیل کر دیا ہے اور اس سے دیگر معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.