اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہے، حالانکہ پڑوسی ملکوں میں پیٹرول کے لیے قطاریں لگی ہیں اور وہاں پیٹرول دستیاب نہیں ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی کمی کو روک دیا ہے۔
پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے بتایا کہ مشرقی ہمسایہ ملک میں پیٹرول کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں اور خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن پاکستان میں وزیراعظم کے بروقت اقدامات کی بدولت پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے کے باعث پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں، اس لیے عوام کو پیٹرول کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے وزرا کی تنخواہیں کم کیں اور گاڑیاں کم کیں، لیکن عوام کے لیے پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت قومی قیادت کو بھی مشاورت کے لیے اکٹھا کیا گیا، جس میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کے نظام پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا۔ وزیراعظم روزانہ وزرا سے کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے تحفظ کے لیے دن رات کوششیں جاری ہیں اور تیل کی قلت ہمارا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی قیمت کو مستحکم رکھنا ایک چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتیں نہ بڑھانے کی وجہ سے عوام کی عید خوشگوار گزری۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت غریب آدمی اور کاشتکار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بس مالکان کو اس شرط پر سبسڈی دی جا رہی ہے کہ کرایے نہ بڑھائے جائیں، اور مال بردار گاڑیوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ اشیائے ضروریہ مہنگی نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 129 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں سے کاٹ کر عوام کو دیے گئے، اور وزیراعظم نے مڈل کلاس کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کی۔ عوام کو بھی پیٹرول کے استعمال میں سوچ سمجھ کر عمل کرنا ہوگا۔