اسلام آباد: وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ تبصرے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے یہ ذخائر دو طرفہ تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے اور حکومت پاکستان طے شدہ شرائط کے مطابق مدت پوری ہونے پر ان کی واپسی کر رہی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے اور اسے غلط رنگ دینا گمراہ کن ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور دیگر مختلف شعبوں میں اسٹریٹیجک تعاون جاری ہے۔ پاکستان اس ماہ امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس اور 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی واپسی کرے گا۔
مذاکرات سے متعلق ایرانی وزیرخارجہ کی وضاحت پر اسحاق ڈار کا خیرمقدم
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان یو اے ای کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔
یاد رہے کہ دی نیوز انٹرنیشنل نے فروری 2026 میں رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں 2 ماہ کی توسیع کی منظوری دی تھی، جس کی نئی تاریخ 17 اپریل 2026 مقرر کی گئی تھی۔ تاہم اب حکومت نے سود سمیت اس رقم کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل یو اے ای نے 2 ارب ڈالر کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا تھا، جس میں ایک ارب ڈالر کی مدت 16 فروری اور باقی ایک ارب ڈالر کی 22 فروری کو ختم ہوئی تھی۔ پاکستانی حکومت نے پہلے 2 سال کے لیے توسیع کی درخواست دی تھی اور بعد میں مزید مہلت کے لیے نئی درخواست بھی دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یو اے ای کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس 17 اپریل کو 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کیے جائیں گے، جبکہ 8 اپریل 2026 کو یورو بانڈ کی مدت پوری ہونے پر 1.3 ارب ڈالر بھی ادا کیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر پاکستان کو اصل رقم اور منافع سمیت 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، جب کہ یو اے ای کے مزید 1 ارب ڈالر کے ڈپازٹس جولائی 2026 میں واجب الادا ہوں گے۔