ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ رمضان میں ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اب خلیج فارس میں ایک بھی امریکی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔
اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پر مسلط جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز موجود تھے، جبکہ ماضی میں ہونے والی ایران عراق جنگ کے وقت امریکا 100 سے زائد جنگی جہاز خلیج فارس میں لایا تھا، تاہم اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی بحری جہاز موجود نہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، برینٹ کروڈ 89.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
جنرل محبی نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے ردعمل کے نتیجے میں دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب پر بمباری کی تھی، جس کے جواب میں امریکا، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر ایسے حملے کیے گئے کہ امریکا کے لیے اس جنگ کو اسی قوت کے ساتھ جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔
ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر ایران کو دوبارہ خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی کے نظام اور انٹرنیٹ سے منسلک عالمی انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا جائے گا۔
تاہم پاسداران انقلاب نے ایران کی ناکہ بندی کرنے والے امریکی بحری جہازوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل 90 لاکھ بیرل یومیہ کے قریب پہنچ گئی، امریکی وزیر توانائی کا دعویٰ۔