ہفتہ وار تعطیل کا دن پورے ہفتے کے دیگر دنوں کے مقابلے میں کئی لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ چھٹی کے دن نیند کے معمولات، سماجی میل جول اور دیگر معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر غذائی عادات میں تبدیلی صحت پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔
گور نرراج کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،سہیل آفریدی
جرنل کمیونیکیشنز میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں دیکھا گیا کہ ہفتہ وار تعطیل کے دوران معمولات میں آنے والی تبدیلیوں کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں غذائی عادات اور امراض قلب کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا اور ان افراد کی صحت کو 8 سال سے زائد عرصے تک مانیٹر کیا گیا۔ تحقیق کے دوران خواتین کے ڈیٹا میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آیا، تاہم مردوں میں یہ فرق زیادہ واضح تھا۔
تحقیق کے مطابق ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر کھانے کے اوقات میں تبدیلی سے مردوں میں امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتہ وار تعطیل اور ہفتے کے عام دنوں کے دوران کھانے کے اوقات کا معمول امراض قلب کے خطرے کے حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔ مناسب نیند کے دورانیے اور بہتر غذائی معیار کے باوجود یہ خطرہ برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی ان نتائج کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا اور مزید تحقیق جاری ہے، تاہم اگر ان نتائج کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کھانے کے اوقات کو یکساں رکھنے سے امراض قلب کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ہفتے کے عام دنوں اور چھٹی کے دن کھانے کے اوقات میں نمایاں فرق مردوں میں امراض قلب کا خطرہ 14 سے 21 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعلق دیگر تمام عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں چھٹی کے دن غذائی معمولات میں تبدیلیاں عام ہوچکی ہیں، جس سے جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور جسم، بشمول دل، پر تناؤ بڑھتا ہے۔
محققین کے مطابق اس سے پہلے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نیند کا یکساں معمول مختلف امراض کے خطرے کو کم کرتا ہے، جبکہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھانے کے معمولات کو برقرار رکھنا بھی امراض قلب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔



