اسٹیل انڈسٹری کے لیے بجلی پر سیلز ٹیکس کی شرح مزید سخت کردی گئی ہے، جبکہ فاٹا، پاٹا اور ری رولرز کو کم ٹیکس شرح صرف مخصوص شرائط پوری کرنے پر ہی حاصل ہوگی۔
محمد رضوان کی این سی سی آئی اے میں دوبارہ طلبی،عدم پیشی پر کارروائی کا عندیہ
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق ری رولرز بجلی کے ہر یونٹ پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ فاٹا اور پاٹا کے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس کے لیے بھی شرائط مزید سخت کردی گئی ہیں۔ اگر یہ یونٹس مقامی اسکریپ استعمال کریں گے تو بجلی کے ہر یونٹ پر 20 روپے جی ایس ٹی عائد ہوگا۔

70 فیصد سے زیادہ درآمدی خام مال یا اسکریپ استعمال کرنے کی صورت میں بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔ 5 روپے فی یونٹ کے رعایتی ریٹ کا اطلاق سہ ماہی خریداری یا درآمدات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ بجلی پر وصول ہونے والا سیلز ٹیکس ایڈوانس ٹیکس تصور ہوگا، جسے بعد میں آؤٹ پٹ ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاسکے گا۔ بجلی کے کنکشن کا مالک تبدیل ہونے یا کنکشن لیز پر دینے کے باوجود یہ ٹیکس برقرار رہے گا۔



