تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو ایران کے ساتھ مفاہمت اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے، جبکہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے موجودہ صورتحال بہترین وقت ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایران اور عمان کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کردہ گائیڈ لائنز پر عمل کرے، تاہم امریکا نے ایسا نہیں کیا جس کے بعد ایران کو ردعمل دینا پڑا۔
لانگ مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں بلکہ ان تک رسائی ہے: سہیل آفریدی
ایرانی صدر کے مطابق ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عام طور پر ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس معاملے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران وقار اور فخر کے ساتھ اس راستے پر آگے بڑھے گا۔
مسعود پزشکیان نے امریکا کو مجرم اور استعماری حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے حوالے سے ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے ایرانی قوم کو خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ صرف جنگ کے ذریعے ایرانیوں کو اپنے احکامات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے داخلی تقسیم، اختلافات اور تنازعات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ قومی اتحاد اور مزاحمت ہی ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں ایرانی عوام کو استقامت اور مزاحمت جاری رکھنا ہوگی۔