ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران اپنی سرزمین یا بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب ضرور دے گا۔
امریکا نے سی آئی اے مراکز پر ایرانی حملوں میں روس کے ممکنہ کردار کی تحقیقات شروع کر دیں
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران یا اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کی جارحیت میں کسی بھی نوعیت کی معاونت کرنے والے تمام فریقوں کو بھی جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے تین روز قبل سینٹکام کو ہدایات جاری کی تھیں اور بعد ازاں اسی بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دوبارہ شیئر کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، اسے تباہ کیا جا رہا ہے اور حملے جاری رہیں گے۔
ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی خبر ایجنسی تسنیم سے گفتگو میں ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا ایران میں کسی پل یا بجلی گھر کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی خطے میں موجود ان پلوں، توانائی کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا جہاں امریکا کے مفادات موجود ہیں۔