ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان، ترکیہ، عراق، لبنان، فلسطین، روس اور بلغاریہ سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود نے شہید رہبرِ اعلیٰ کی تعزیتی تقریبات میں شرکت کی، انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔
رپورٹس کے مطابق آج منعقد ہونے والی تمام تعزیتی تقریبات صرف عالمی رہنماؤں اور غیر ملکی وفود کے لیے مختص ہیں، جبکہ سات روزہ تعزیتی تقریبات ایران اور عراق کے پانچ بڑے شہروں میں منعقد کی جائیں گی۔
وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد کی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت، خراج عقیدت پیش
کل تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں عوام کو شہید سپریم لیڈر کا آخری دیدار کرایا جائے گا، جبکہ پیر کے روز تہران میں مرکزی جنازہ جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا۔
بعد ازاں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت قم سے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جائی جائے گی، جبکہ 9 جولائی کو انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی مؤقف کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔