اس اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ لبنان اور اسرائیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پاکستان
پاکستان نے لبنان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس میں اسرائیل کی بلیو لائن تک مکمل واپسی بھی شامل ہے۔
مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات اور براہ راست بات چیت کے باوجود لبنان میں سکیورٹی اور انسانی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، جس کے ساتھ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور لبنانی حدود میں زمینی دراندازی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہزار مربع کلومیٹر، جو لبنان کا تقریباً بیس فیصد بنتا ہے، اب اسرائیل کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ انخلا کے احکامات شہریوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ہم نے دیگر مقامات پر دیکھا ہے، یعنی اندھا دھند قتل عام، جبری بے دخلی اور قبضہ۔ مارچ سے اب تک لبنان میں خواتین اور بچوں سمیت تین ہزار چار سو سے زائد افراد جاں بحق اور دس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
روس
اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبینزیا نے کہا کہ سترہ اپریل کو امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، مگر اس کے باوجود اسرائیل نے لبنان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیا دو جون کو مذاکرات کے اگلے دور کی منتظر تھی تو لبنان میں غزہ جیسی صورتحال دیکھی گئی، جس میں جبری نقل مکانی بھی شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مسلح مزاحمت کا تصور مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
فرانس
اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ ان کے ملک نے اس اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وسعت اور تسلسل کا کوئی جواز نہیں۔
لیموں کو آپ گھر کے اندر ان حیرت انگیز کاموں کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری متاثر ہوئے، آبادی بے گھر ہوئی اور مزید علاقے متاثر ہوئے، جو ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی ہے۔
امریکا
امریکا کے نمائندے مائیکل جی والٹز نے کہا کہ لبنان کی قانونی حکومت ایک ایسی تنظیم کے اثر سے ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہے جو ایران کے تابع ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ حملے بند کر دے تو کشیدگی میں کمی اور امن ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنے ہوں گے، لبنان کی حکومت کو ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنا ہوگا اور ایران کو لبنان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند کرنا ہوگا۔
لبنان
لبنان کے نمائندے احمد عرفہ نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باوجود اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل طبی عملے، ہسپتالوں، صحافیوں، اسکولوں، اقوام متحدہ کی فورس اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے ان کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرنا ہوگا تاکہ لبنان کی حکومت پورے ملک پر کنٹرول قائم کر سکے۔
اسرائیل
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینون نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان میں کارروائی کسی اچانک فیصلے کے تحت نہیں کی بلکہ دو مارچ کے حملوں کے بعد دفاعی ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور حالیہ حملے جنگ بندی کے بعد سب سے شدید تھے۔