امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ایک بہتر اور مضبوط سمجھوتا ثابت ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق سیاسی مخالفین کی مسلسل تنقید مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکن رہنما غیر ضروری طور پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں کبھی سست اور کبھی تیز اقدامات کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جس سے سیاسی صورتحال پیچیدہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاملہ آخرکار بہتر طریقے سے حل ہو جائے گا۔
کراچی: پُراسرار طور پر لاپتا ہونیوالے امریکی شہری کے واقعہ کا ڈراپ سین، حقیقت سامنے آگئی
اپنی پوسٹ میں انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ایران سے متعلق رپورٹ میں غلط بیانی کی اور فیک نیوز پھیلائی۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور جوہری معاملات اس معاہدے کا مرکزی حصہ ہیں۔
ان کے مطابق معاہدہ نہایت تفصیلی ہے اور اس میں جوہری امور کے مختلف پہلوؤں پر بات کی گئی ہے، بلکہ اس کا زیادہ تر حصہ اسی موضوع سے متعلق ہے۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا سی این این اپنی ساکھ موجودہ ملکیت کے تحت بحال کر پائے گا یا نہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے مذاکرات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔