دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔
دل کی صحت سے جڑے مسائل بشمول ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی یا اس عضو کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصان کے لیے امراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نوجوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور تمباکو نوشی کو دل کے مختلف امراض کا خطرہ بڑھانے والے اہم عوامل قرار دیا جاتا ہے، جبکہ طرز زندگی میں تبدیلیاں بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے امراض قلب کی جلد تشخیص کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے سنگین پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے خون کے ٹیسٹ کی بجائے ایک عام ورزش زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکا کے ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پش اپ ورزش دل کی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ دل کی شریانوں کی صحت کو جانچنے کے لیے کوئی آسان طریقہ تلاش کیا جا سکے۔ اس کے لیے 1104 فائر فائٹرز کو شامل کیا گیا اور 10 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
ان افراد کی اوسط عمر 40 سال تھی، اور یہ دیکھا گیا کہ ہر فرد ایک وقت میں کتنے پش اپس لگا سکتا ہے۔ دورانِ تحقیق ان کے پش اپس کے دوران دل کی دھڑکن کی رفتار کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ 10 سال کے عرصے میں امراض قلب کے کیسز کا بھی تجزیہ کیا گیا۔
اس مدت میں امراض قلب کے 37 کیسز سامنے آئے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ پش اپس لگانے اور امراض قلب کے خطرے میں کمی کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
ایسے افراد جو 40 سے زائد پش اپس مکمل کر سکتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ 96 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اسی طرح 11 سے 20 پش اپس کرنے والوں میں یہ خطرہ 64 فیصد، 21 سے 30 پش اپس کرنے والوں میں 84 فیصد، جبکہ 31 سے 40 پش اپس کرنے والوں میں 75 فیصد تک کم پایا گیا۔
مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا
اس کے برعکس 0 سے 10 پش اپس کرنے والے افراد میں 10 سال کے دوران امراض قلب کا خطرہ 15 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق یہ ورزش صرف بالائی جسم کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ ایک مکمل جسمانی سرگرمی ہے جو جسم کی مجموعی طاقت اور برداشت کا اندازہ بھی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے جسمانی وزن میں کمی، بلڈ پریشر میں بہتری، نقصان دہ کولیسٹرول، خون میں چکنائی اور بلڈ گلوکوز کی سطح میں کمی جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جو امراض قلب کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔
محققین نے تسلیم کیا کہ یہ تحقیق محدود نوعیت کی تھی کیونکہ اس میں صرف فائر فائٹرز شامل تھے جو عام طور پر جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جبکہ زیادہ تر افراد 40 پش اپس ایک ساتھ مکمل نہیں کر سکتے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پش اپس کو معمول بنانا عام افراد کی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئی ہے۔