Gas Leakage Web ad 1

مسیحا یا تاجر؟

حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر

0

جب مریض اپنی جان اور اعتماد ڈاکٹر کے حوالے کرے، تو اس اعتماد کی قیمت کون طے کرے گا؟

Gas Leakage Web ad 2

کبھی کبھی زندگی میں کوئی معمولی سا واقعہ اچانک آپ کو روک لیتا ہے۔ آپ اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز کو دوبارہ دیکھتے ہیں، پھر اردگرد کے منظر کو، اور دل کے کسی کونے سے ایک سوال اٹھتا ہے: آخر یہاں کچھ ایسا تو نہیں جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے؟

ایک عزیز کو ڈاکٹر صاحب کے پاس چیک اَپ کے لیے لے گیا۔ کلینک میں مریضوں کا رش تھا۔ کسی کے چہرے پر بیماری کی تھکن تھی، کسی کی آنکھوں میں امید اور کوئی خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔

سب کے پاس ایک ہی چیز تھی۔ اعتماد۔

مریض کا معائنہ ہوا، کچھ ٹیسٹ تجویز کیے گئے اور ادویات کے ساتھ ملٹی وٹامنز اور فوڈ سپلیمنٹس بھی نسخے میں شامل تھے۔ ابتدا میں مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی۔ ممکن تھا ڈاکٹر کے پاس ان کے لیے کوئی طبی وجہ ہو جس سے میں واقف نہ ہوں۔

لیکن جب ادویات لینے کاؤنٹر تک پہنچا اور ایک ایک چیز کی قیمت دیکھی تو میرے قدم رک گئے۔

میں طویل عرصہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ رہا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا کہ بعض مصنوعات، جو مریض کو کئی ہزار روپے میں پڑ رہی ہیں، نسبتاً کم قیمت میں بھی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ پھر بھی میں نے فوراً کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مگر انتظار گاہ میں بیٹھے دوسرے مریضوں کے نسخے دیکھنے پر ایک عجیب مماثلت سامنے آئی۔ مریض مختلف تھے، بیماریاں مختلف، عمریں اور حالات مختلف؛ مگر کئی نسخوں میں دو تین ملٹی وٹامنز، منرلز اور فوڈ سپلیمنٹس ایک جیسے تھے۔ بعض مصنوعات کی مجموعی قیمت ایک عام گھرانے کے لیے معمولی رقم نہیں تھی۔

میں نے ایک مریض سے پوچھا: ’’یہ سب بھی ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے؟‘‘
اس نے سادگی سے نسخہ میری طرف بڑھایا ۔ جی صاحب، ڈاکٹر صاحب نے لکھی ہیں۔‘

بس، یہی جملہ میرے ذہن میں اٹک گیا: ڈاکٹر صاحب نے لکھی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں یہ محض ایک جملہ نہیں، اعتماد کی آخری مہر ہے۔
مریض کو معلوم نہیں کہ دوا میں کیا شامل ہے، سستا متبادل موجود ہے یا نہیں، کون سا سپلیمنٹ واقعی ضروری ہے اور کون سا صرف اضافی خرچ بن سکتا ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس بیماری سے زیادہ اپنا اعتماد لے کر جاتا ہے۔

ذرا اس مزدور، کسان، بیوہ یا بوڑھے مریض کا تصور کیجیے جو طب کی اصطلاحات سے ناواقف ہے۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سفید کوٹ پہنے شخص نے کچھ لکھا ہے، لہٰذا وہ ضروری ہوگا۔
وہ شاید راشن کا حساب بدلتا ہے، بچے کی فیس مؤخر کرتا ہے یا بجلی کا بل ایک طرف رکھتا ہے اور کسی نہ کسی طرح دوا خرید لیتا ہے۔
کیونکہ اس کے ذہن میں ایک ہی بات ہوتی ہے ،ڈاکٹر نے لکھی ہے، ضرور ضروری ہوگی۔

یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر یہی نسخہ کسی غریب مریض کے بجائے ڈاکٹر کی اپنی ماں، بیٹی یا بیٹے کے ہاتھ میں ہو تو کیا وہ بھی بغیر سوال کے یہی سب کچھ خریدے گا؟ کیا وہ دوا کی ضرورت، قیمت اور متبادل کا جائزہ نہیں لے گا؟

یہ سوال کسی ایک ڈاکٹر کے خلاف نہیں؛ یہ ہمارے پورے نظامِ صحت کے سامنے رکھا جانے والا سوال ہے۔

اور بات صرف ادویات تک محدود نہیں۔ ٹیسٹ بھی علاج کا اہم حصہ ہیں، مگر اگر رپورٹس میں نمایاں فرق آجائے تو مریض کہاں جائے؟

ایک مریض کا LFT اور لپڈ پروفائل ناشتے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد کرایا گیا۔ رپورٹ میں ٹرائی گلیسرائیڈ 206، ALT 54 اور کولیسٹرول 135 آیا۔ انہی نتائج کی بنیاد پر فیٹی لیور کا خدشہ ظاہر کیا گیا، ٹرائی گلیسرائیڈ کو بلند قرار دیا گیا اور کولیسٹرول کی دوا بند کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

کولیسٹرول کا نتیجہ غیر معمولی محسوس ہوا تو اگلے روز فاسٹنگ میں دوبارہ ٹیسٹ کرایا گیا، وہ بھی دو مختلف لیبارٹریوں سے۔ اس مرتبہ ALT ایک لیب میں 35 اور دوسری میں تقریباً 38، کولیسٹرول 199 اور 206 جبکہ ٹرائی گلیسرائیڈ 121 تھا۔

میں کسی لیبارٹری کو غلط قرار دینے کا دعویٰ نہیں کر رہا۔ ناشتے کے بعد اور فاسٹنگ ٹیسٹ کے فرق سمیت کئی طبی اور تکنیکی عوامل نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ اصل رپورٹس، طریقۂ کار اور ماہر طبی رائے ہی سے ممکن ہے۔
لیکن اتنا فرق ایک عام مریض کے ذہن میں سوال ضرور پیدا کرتا ہے
اگر ڈاکٹر کا فیصلہ رپورٹ پر ہے اور رپورٹ ہی میں غیر معمولی فرق آجائے تو مریض کس پر اعتماد کرے؟

اگر شک نہ ہوتا اور دوبارہ ٹیسٹ نہ کرایا جاتا تو شاید ایک رپورٹ کی بنیاد پر علاج کا راستہ بدل جاتا۔ مگر ہر مریض کو یہ سہولت کہاں حاصل ہے کہ وہ شک کرے، دوبارہ ٹیسٹ کرائے اور نتائج کا تقابل کرے؟

اسی لیے صرف جدید مشینیں کافی نہیں۔ نمونہ انسان لیتا ہے، اسے تیار کرتا ہے، مشین چلاتا ہے اور رپورٹ جاری کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ تربیت، قابلیت، معیاری طریقۂ کار اور مسلسل کوالٹی کنٹرول بھی ضروری ہے۔

اسی طرح اگر کہیں ڈاکٹر اور لیبارٹری کے درمیان ٹیسٹوں کے کاروباری مفادات شامل ہوں تو سوال اٹھنا چاہیے۔
ٹیسٹ مریض کی طبی ضرورت پر لکھا جا رہا ہے یا کسی اور مفاد کا بھی اس میں حصہ ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں بے شمار ڈاکٹر حقیقی معنوں میں مسیحا ہیں۔ محدود وسائل میں کام کرتے ہیں، غریب مریض کی فیس معاف کرتے ہیں، اپنی جیب سے دوا دیتے ہیں اور اپنی سہولت سے پہلے مریض کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے ڈاکٹر ہمارے معاشرے کا فخر ہیں۔

لیکن اگر کہیں سفید کوٹ کے پیچھے تجارت چھپ جائے، مریض کی مجبوری کو منافع کا موقع سمجھا جائے، نسخہ ضرورت سے زیادہ کاروبار بن جائے یا تشخیص پر کسی غیر طبی مفاد کا سایہ پڑنے لگے تو خاموش رہنا درست نہیں۔

کیونکہ ڈاکٹر کی میز پر رکھا ہوا قلم صرف دوا نہیں لکھتا؛
وہ اعتماد لکھتا ہے۔
اور اعتماد کی کوئی مارکیٹ قیمت نہیں ہوتی۔

ہمیں مریض کو ڈاکٹر کا مخالف نہیں بنانا۔ اسے باخبر بنانا ہے۔ سوال کرنا بداعتمادی نہیں۔ دوسری رائے لینا گستاخی نہیں۔ دوا کے اجزا پوچھنا بے ادبی نہیں۔ ٹیسٹ کی ضرورت سمجھنا مریض کا حق ہے۔

اور ڈاکٹر کا فرض ہے کہ مریض کے سوال کو اپنی توہین نہیں بلکہ اپنے پیشے کی ذمہ داری سمجھے۔

اگر کسی کی غفلت کسی انسان کو غیر ضروری علاج، مالی نقصان، ذہنی اذیت یا حقیقی طبی نقصان تک پہنچا دے تو ذمہ داری کس پر ہوگی؟

کیا کسی غریب کے پیسے کا ضیاع صرف چند ہزار روپے ہیں؟ کیا اس کے وقت کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا اس کی رات بھر کی بے خوابی کوئی نقصان نہیں؟

سب سے پہلے ہمیں پوچھنا چاہیے:
ذمہ دار کون ہے؟ جواب دہ کون ہے؟ اور وہ نظام کہاں ہے جو مریض کو ایسی غفلت سے محفوظ رکھے؟

بات صرف ایک ڈاکٹر، ایک لیبارٹری یا ایک کلینک کی نہیں۔ یہ پورے نظامِ صحت کا سوال ہے۔ مقصد کسی کی عزت اچھالنا نہیں بلکہ مریض کے حقوق کا تحفظ ہے۔

اگر آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے، اگر کسی دوا، ٹیسٹ، سپلیمنٹ، کلینک یا ہسپتال کے تجربے نے آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں کچھ درست نہیں، تو سوال ضرور اٹھائیں۔ ممکن ہے آپ کا ایک سوال کسی دوسرے خاندان کو غیر ضروری خرچ یا نقصان سے بچا دے۔

یہ صرف ایک تحریر نہیں؛ یہ اپنے حصے کی ایک اخلاقی جدوجہد ہے۔

کیونکہ آخر میں نہ کلینک ہمارے ساتھ جائے گا، نہ نسخہ، نہ عہدہ، نہ گاڑی اور نہ دولت۔

ایک دن انسان کو اپنے اعمال کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔

اس دن شاید سوال یہ نہیں ہوگا کہ تم نے کتنا کمایا تھا۔
سوال یہ ہوگا:

جس انسان نے تم پر اپنی جان، اپنی غربت اور اپنا اعتماد رکھا تھا، تم نے اس اعتماد کے ساتھ کیا کیا؟

خدا کی لاٹھی بے آواز ضرور ہے، مگر انسان کو سنبھل جانے کا موقع ضرور دیتی ہے۔

مریض کی جیب خالی ہو جائے تو شاید وہ دوبارہ بھر جائے، مگر مریض کا اعتماد ٹوٹ جائے تو پورا معاشرہ غریب ہو جاتا ہے۔

( حرف محتاط / ملک خالد ضمیر )
kmzameer@gmail.com

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.