ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے دگنی ادویات تجویز کی جا رہی ہیں۔
یہ تحقیق ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ماہرین نے کی ہے، جس کے مطابق ایک نسخے میں اوسطاً 4.2 ادویات تجویز کی گئیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد 1.6 سے 1.8 ہے۔
عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
تحقیق کے مطابق پشاور کے ایک بڑے اسپتال میں فی نسخہ اوسطاً 10.56 ادویات تجویز کی گئیں۔ پاکستان میں صرف 25 فیصد ادویات جنیرک نام سے تجویز کی جاتی ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمام ادویات جنیرک نام سے تجویز ہونی چاہئیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 45 فیصد نسخوں میں اینٹی بائیوٹکس شامل ہوتی ہیں، جبکہ عالمی حد 20 سے 26.8 فیصد ہے۔
تحقیق کے مطابق ملک میں 27 فیصد سے زائد نسخوں میں انجیکشن تجویز کیے گئے، جبکہ صرف 72 فیصد تجویز کردہ ادویات قومی فہرستِ برائے ضروری ادویات میں شامل تھیں۔
پروفیسر شہزاد کا کہنا ہے کہ غیر ضروری ادویات کا استعمال بنیادی مراکز سے تدریسی اسپتالوں تک ملک بھر میں پایا گیا ہے۔ مریض جلد صحتیابی کے لیے انجیکشن اور اینٹی بائیوٹکس کا مطالبہ کرتے ہیں۔
شہزاد علی کے مطابق فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ جنیرک ادویات کے کم استعمال کی ایک وجہ ہے۔ ادویات تجویز کرنے کے رہنما اصول موجود ہیں، مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ غیر ضروری ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کو روکنے کے لیے کارروائی ضروری ہے۔