شفق رفیع
6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان، اس وطن کی تاریخ کا وہ ناقابلِ فراموش اورعظیم دن ہے کہ جب پوری قوم نے اتّحاد، عزم اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی، جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ وہ دن ہے، جس کی ہیبت سے آج بھی بھارتی افواج پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔
6 ستمبر دَرحقیقت ایک جنگ کی یاد نہیں بلکہ اس جذبۂ حبّ الوطنی کی تجدید کا دن ہے، جب پاکستان کے جرّی سپوتوں نے اپنی مادرِ گیتی کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جانوں کے نذرانے پیش کیے، بحری، بّری اور فضائی سرحدوں کو محفوظ بنایا اور اپنے وطن پر ایک آنچ بھی نہ آنے دی۔
گرچہ دشمن نے ہم پر رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا، تاہم ہماری افواج نے دن کے اُجالے میں شیروں کی طرح ہر محاذ پر اس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ جہاں برّی اور فضائی معرکوں میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، وہیں بحری سرحدوں کے دفاع میں پاک بحریہ نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔
سمندر کی خاموش وسعتوں میں رہتے ہوئے پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے جس پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور منصوبہ بندی کا مظاہرہ کیا، وہ قومی تاریخ کا روشن باب ہے۔
1965 ء کی جنگ میں پاکستان نیوی نے محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری قوّت سے ادا کی۔ سمندری حدود کی سخت نگرانی کرتے ہوئے اسے محفوظ بنایا، دشمن کے بحری بیڑے کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی اور پاکستان کے ساحلی علاقوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا۔ جنگ کے دوران پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ تیاری اور جنگی حکمتِ عملی نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سمندری حدود کا دفاع انتہائی مضبوط ہاتھوں میں ہے، وہ ہاتھ جو ضرروت پڑنے پر دشمن کے لیے آہنی شکنجہ بھی بن سکتے ہیں۔
ستمبر1965ء میں جب دشمن نے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کے ساتھ جنگ مسلط کی، تو پاک بحریہ نے اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے اسے آگے بڑھنے سے روکے رکھا اور شجاعت کی یہ داستان آپریشن دوارکا کا ذکر کیے بغیر کیسے مکمل ہو سکتی ہے۔
جنگِ ستمبر اور آپریشن دوارکا میں اُس وقت پاک بحریہ کی واحد آب دوز پی این ایس ’’غازی‘‘ نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ پی این ایس غازی نے جنگ کے دوران بھارتی بحری بیڑے کے خلاف ایک اہم اسٹریٹیجک کردار ادا کیا۔ 7 ستمبر 1965ء کی رات کو پاک بحریہ کا بحری یڑا، جس میں پی این ایس غازی بھی شامل تھی، بھارت کے ساحلی مسکن ’’دوارکا‘‘ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ دوارکا قلعے پر نصب ریڈار پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک بڑی رکاوٹ تھا، تاہم جذبۂ ایمانی سے سرشار پاک بحریہ کی فلِیٹ نے صرف 20 منٹ میں اس قلعے پر اتنا شدید حملہ کیا کہ وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ یہ ہی نہیں، حملہ اس قدر شدید تھا کہ بھارتی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کر سکی۔ یوں ایک آب دوز کی اسٹریٹیجک موجودگی نے دشمن کے بحری منصوبوں پر نفسیاتی اورعملی دباؤ پیدا کیا۔ کہنے کو تو پاک بحریہ نے حملہ دشمن کے قلعے پرکیا تھا، مگر اس کا اثر سیدھا بھارتی بحریہ کی ہمت اور نفسیات پر ہوا، حملے بعد دشمن کی کمر ایسی ٹوٹی کہ پھر اس نے پاکستان پر حملے کی جرأت نہ کی۔
بعد ازاں، 1971ء میں بھی آبی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں پاک بحریہ نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ ابھی جنگ شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ خطرے کو بھانپتے ہوئے پاکستان نیوی نے اپنی آب دوزیں، بشمول ’غازی‘ اور ’ہنگور‘ مختلف اہداف کی جانب روانہ کر دیں اور ’’ہنگور‘‘ نے فنّی خرابی کے در پیش ہونے کے باوجود جس بہادری سے انڈین فریگیٹ کُھکری تباہ کی، وہ آج تک بھارتی بحریہ کے لیے خوف کی علامت ہے۔
حالیہ برسوں میں خطّے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو دورِ حاضر میں میری ٹائم سیکیورٹی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ معرکۂ حق کے دوران بھی پاکستان کی مسلح افواج نے قومی دفاع کے لیے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاک بحریہ نے سمندری محاذ پر نگرانی، آپریشنل تیاری اور مُلکی سمندری حدود کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بے مثال کردار ادا کیا۔
تاہم، موجودہ دَور کی حقیقت یہ ہے کہ اب جنگ کا تصوّر صرف روایتی محاذ تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ بحری حدود، بندرگاہیں، تجارتی راستے، توانائی کی ترسیل اور سمندری مواصلاتی نظام کسی بھی مُلک کی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کا بنیادی حصّہ بن چُکے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مُلک کی معیشت اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ چناں چہ پاک بحریہ کا کردار صرف جنگ تک محدود نہیں۔ امن کے زمانے میں بھی وہ پاکستان کی سمندری خودمختاری، ساحلی سلامتی اور میری ٹائم مفادات کے تحفّظ کے لیے مسلسل مصروفِ عمل رہتی ہے، کیوں کہ پاک بحریہ بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کی معیشت، سی پیک، گوادر پورٹ اور عالمی تجارتی راستوں کی سلامتی کا دارومدار بحری سرحدوں پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بحریہ نے جدید فریگیٹس، آب دوزیں اور میزائل سسٹمز اپنے بیڑے میں شامل کر کے دفاعی صلاحیت کو بڑھایا تاکہ دشمن اس وطن پر میلی آنکھ نہ ڈال سکے۔
ساتھ ہی پاک بحریہ ساحلی علاقوں اور سمندری حدود میں مختلف نوعیت کی مشقوں کے ذریعے مُلک کوغیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انسدادِ منشّیات کی کارروائیوں میں مشتبہ کشتیوں کی نگرانی، تلاشی اور منشّیات کی بڑی مقدار کی ضبطی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ بحری جنگ کی نوعیت زمینی جنگ سے یوں بھی مختلف ہوتی ہے کہ سمندر میں کئی مرتبہ دشمن دکھائی بھی نہیں دیتا، خطرہ محسوس بھی نہیں ہوتا، مگر ایک غلطی یا کوتاہی جنگ کا نقشہ پلٹ کر رکھ سکتی ہے۔
آج جب ہم یومِ دفاع منا رہے ہیں، تو ضروری ہے کہ نئی نسل کو صرف جنگوں کی تاریخ نہ بتائی جائے بلکہ انہیں یہ بھی سمجھایا جائے کہ قومی دفاع ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ 1965 اور1971 کے تجربات سے لے کر معرکۂ حق اور آج کے جدید میری ٹائم چیلنجز تک، پاکستان نیوی نے اپنے کردار کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔
پاک افواج کے شہدا اور غازیوں کی داستانیں اس امر کی عکّاسی کرتی ہیں کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت، قربانی اور قومی یک جہتی سے مضبوط ہوتی ہیں۔
پاکستان کی سرحدیں بلند بالا، برف پوش پہاڑوں سے ٹھاٹھیں مارتے سمندر تک پھیلی ہوئی ہیں، جن کی حفاظت پر اس مُلک کے بہادر، ماہر،قابل اور جذبۂ شہادت سے سرشار بیٹے مامور ہیں۔ نئے دَور میں حالات کا رُخ تبدیل ہو سکتا، جنگ کے طریقے جدید ہو سکتے ہیں، لیکن وطن کے دفاع کا عزم وہ جذبہ ہے جو نسل دَر نسل ہماری افواج میں منتقل ہوتا ہے۔ یہی جذبہ 1965ء میں بحری محاذ پر پاکستان نیوی کی طاقت بنا، یہی جذبہ مشکل ترین ادوار میں اس کے جوانوں کا حوصلہ رہا اور یہی جذبہ آج بھی پاکستان کے سمندری دفاع کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
یومِ دفاع کا اصل مقصد صرف فتح کا جشن منانا نہیں بلکہ ان شہدا اور غازیوں کو یاد کرنا بھی ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ اور آج بھی اس وطن کی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔
Prev Post