Gas Leakage Web ad 1

مسجد… جہاں دل جڑتے تھے، ہم نے وہاں دل توڑ دیے!

حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر

0

کبھی ذرا خاموشی سے کسی مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر سوچیے…

Gas Leakage Web ad 2

یہ وہ در ہے جہاں روتی ہوئی آنکھیں سکون لے کر لوٹتی تھیں، جہاں ٹوٹے ہوئے دل جڑ جایا کرتے تھے، جہاں دشمن ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر بھائی بن جاتے تھے، جہاں امیر و غریب، حاکم و محکوم اور بڑے چھوٹے کا فرق مٹ جاتا تھا۔ مسجد وہ جگہ تھی جہاں انسان اپنے رب سے بھی ملتا تھا اور اپنے بھائی سے بھی۔

مگر افسوس… آج کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے مسجدوں کی دیواریں تو بلند کر دی ہیں، مگر اپنے ظرف چھوٹے کر لیے ہیں؟ مینار اونچے کر لیے ہیں، مگر کردار پست ہو گئے ہیں؟ اذان کی آواز تو پہلے سے زیادہ بلند ہے، مگر دلوں میں محبت کی آواز مدھم پڑ گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک مقامی مسجد میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات نے صرف ایک مسجد یا ایک محلے کو نہیں، بلکہ ہر اس دل کو زخمی کیا ہے جو مسجد کو اللہ تعالیٰ کا گھر سمجھتا ہے۔ مسجد میں تلخ کلامی، ہاتھا پائی، الزامات اور ان کے مناظر کا سوشل میڈیا پر پھیل جانا یقیناً ایک ایسا لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

مسجد پر تالے اچھے نہیں لگتے…

مسجد تو وہ گھر ہے جس کے دروازے ہر وقت کھلے ہوں۔ مسجد تو امن کی پناہ گاہ ہے، خوف کی علامت نہیں۔ مسجد تو سکون کی جگہ ہے، اضطراب کی نہیں۔ مسجد تو محبت بانٹنے کا مرکز ہے، نفرت بانٹنے کا نہیں۔ مسجد تو دلوں کو جوڑنے کی جگہ ہے، انہیں تقسیم کرنے کی نہیں۔ مسجد تو مسائل کو باہمی مشاورت، حکمت اور اخلاص سے حل کرنے کا مقام ہے، انا کی جنگ لڑنے کا میدان نہیں۔

قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔” (آلِ عمران: 103)

رسولِ اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک میں مسجد صرف عبادت گاہ نہیں تھی۔ وہ علم کا مرکز تھی، عدل کا مقام تھی، مشاورت کا ایوان تھی، مسافروں کی پناہ گاہ تھی، محتاجوں کا سہارا تھی اور پوری امت کے اتحاد کی علامت تھی۔ وہاں اختلاف بھی ہوتے تھے مگر دل نہیں ٹوٹتے تھے۔ رائے مختلف ہوتی تھی مگر احترام باقی رہتا تھا۔ آوازیں بلند نہیں ہوتی تھیں، کردار بلند ہوتے تھے۔

امامِ مسجد محض نماز پڑھانے والا نہیں ہوتا، بلکہ دلوں کو جوڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ محراب میں کھڑے ہو کر صرف تکبیر نہیں کہتا بلکہ صبر، برداشت، محبت اور اخوت کا عملی درس بھی دیتا ہے۔ اسی طرح مسجد کی انتظامیہ بھی کسی اختیار کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ امانت میں خدمت ہوتی ہے، حکمرانی نہیں؛ جواب دہی ہوتی ہے، برتری نہیں۔

علامہ اقبال نے شاید اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا:

"مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔”

آج یہ شعر پہلے سے کہیں زیادہ دل میں اترتا ہے۔ ہم نے مسجدیں تو تعمیر کر لیں، مگر مسجد کا مزاج اپنے اندر تعمیر نہ کر سکے۔ ہم نے محرابیں سجا لیں، مگر دل ویران چھوڑ دیے۔ ہم نے لاؤڈ اسپیکر بلند کر لیے، مگر اپنے لہجوں میں نرمی اور اپنے رویوں میں وسعت پیدا نہ کر سکے۔

آج سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسجد ہار گئی؟ کیا ہماری نئی نسل مسجد کو محبت، برداشت اور اخوت کی علامت سمجھے گی یا اختلاف، گروہ بندی اور کشیدگی کی؟

اگر ہم نے مسجدوں کو ذاتی انا، گروہی تعصب اور دنیاوی کشمکش سے بلند نہ کیا تو نقصان صرف چند افراد کا نہیں ہوگا، بلکہ پوری نسل مسجد کے اصل پیغام سے دور ہوتی چلی جائے گی۔

اگر آج مفاہمت، باہمی احترام اور مشاورت کی کوئی راہ نکلتی ہے تو یہی سب کی کامیابی ہے۔ کیونکہ مسجد کسی فرد، کسی کمیٹی یا کسی گروہ کی نہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کی مشترکہ امانت ہے۔

آئیے، اپنے دلوں سے صرف ایک سوال کریں…

ہم مسجد میں اللہ کو راضی کرنے جاتے ہیں یا اپنی انا کو جتوانے؟

جس دن اس سوال کا جواب اخلاص کے ساتھ مل گیا، یقین جانیے اس دن مسجد کے دروازوں پر تالے نہیں ہوں گے، دلوں پر نفرت کے پہرے نہیں ہوں گے، اختلاف دشمنی میں نہیں بدلے گا۔ وہاں صرف اذان ہوگی، صفیں ہوں گی، دعائیں ہوں گی، معافیاں ہوں گی اور وہ سکون ہوگا جس کے لیے انسان دنیا بھر کی تھکن اٹھا کر اللہ کے گھر آتا ہے۔

اے اللہ! ہماری مسجدوں کو اختلاف سے نہیں، اخلاص سے آباد فرما۔ ہمارے دلوں سے کینہ، غرور اور نفرت کو نکال دے، ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے، معاف کرنے اور جوڑنے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری مسجدوں کو امن، محبت، اتحاد اور رحمت کا مرکز بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

( حرف محتاط / ملک خالد ضمیر )

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.